جھڑکی سے اُسنے ہمکو خفا دیکھ کر کہا — نظیر اکبرآبادی

جھڑکی سے اُسنے ہمکو خفا دیکھ کر کہا کیا تاپتے لگتے ہو اس رسم و راہ کو

“Seeing me vexed by her rebuke, she spoke and said: Why do you warm yourself at this custom of ties we've made?”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

جب اُس نے جھڑکی سے مجھے ناراض دیکھا تو کہا کہ اس رشتے ناتے کی رسم پر تم کیوں اتنے تپتے جلتے ہو۔

تشریح

اِس شعر میں محبوبہ اپنے ناراض عاشق کو دیکھ کر ایک پیارا سا طنز کرتی ہے — جیسے کوئی سردی میں آگ تاپتا ہے، ویسے ہی تم اِس رشتے کی گرمی سے لطف لیتے ہو۔ یہاں جھڑکی اور ڈانٹ بھی محبت کی آنچ بن جاتی ہے جس سے عاشق کو سکون ملتا ہے۔ گہرائی یہ ہے کہ محبت میں شکوہ اور عتاب بھی ایک میٹھا نبھاؤ بن جاتے ہیں، جن کی تپش میں دل بہل جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.