ناصح تو راست کہتا ہو لیکن وہ کیا کرے — نظیر اکبرآبادی
“The counselor may speak the truth, yet what is one to do— When the heart's already given to some rakish, tilted-cap?”
معنی
ناصح بے شک سچ ہی کہتا ہو، مگر وہ کیا کرے جس نے اپنا دل کسی بانکے کج کلاہ محبوب کو دے بیٹھا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر عاشق کی ایک پیاری سی بے بسی بیان کرتا ہے۔ ناصح بھلے ہی بالکل سچ کہہ رہا ہو، مگر جب دل کسی 'کج کلاہ' کو — یعنی ٹیڑھی ٹوپی پہننے والے اُس شوخ اور بانکے محبوب کو — دے بیٹھے، تو پھر سمجھداری کی باتیں کس کام کی۔ کج کلاہ کی تِرچھی ٹوپی اُس ناز و انداز اور بانکپن کی علامت ہے جو دل کو لوٹ لے جاتا ہے، اور شاعر کہتا ہے کہ عشق کے سامنے عقل اور نصیحت دونوں بے بس ہو جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
