جاتی ہیں جھڑکیں نہیں ہماری وہ لذتین — نظیر اکبرآبادی

جاتی ہیں جھڑکیں نہیں ہماری وہ لذتین جو چاہ میں سمجھتے ہیں بہتر نگاہ کو

“The rebukes may depart, but not those relishes of ours Who, in their love, deem a reproachful glance the sweeter gift.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

جھڑکیاں چلی جائیں تو جائیں، مگر ہماری وہ لذتیں نہیں جاتیں، کیونکہ جو محبت میں ہوتے ہیں وہ جھڑکتی ہوئی نگاہ کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں عاشق کی عجیب دیوانگی جھلکتی ہے — وہ کہتا ہے کہ محبوب کی جھڑکیاں، اس کی ڈانٹ بھلے چلی جائیں، مگر اُن سے ملنے والا وہ لطف کبھی نہیں جاتا۔ سچے عاشق کے لیے محبوب کی تیکھی، ناراض نگاہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں، بلکہ محبت میں وہ اُسی گھورتی ہوئی نگاہ کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ یہاں درد اور لذت کا انوکھا میل ہے — جہاں ٹھکرایا جانا بھی ایک طرح کا انعام بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.