بیٹھا جو چاندنی میں تو رخ کی جھلک دکھا — نظیر اکبرآبادی

بیٹھا جو چاندنی میں تو رخ کی جھلک دکھا خجلت تھی کون سی کہ نہ دی روے ماہ کو

“When you sat in the moonlight, you showed your face's gleam— what shame was there that you did not inflict upon the moon?”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

جب تم چاندنی میں بیٹھے تو اپنے چہرے کی جھلک دکھائی—ایسی کون سی شرمندگی تھی جو تم نے چاند کے چہرے کو نہ دی؟

تشریح

ذرا تصور کیجیے، محبوب چاندنی رات میں بیٹھ کر اپنے چہرے کی ایک جھلک دکھاتا ہے، اور اسی لمحے چاند شرمسار ہو جاتا ہے۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ تمہارے رخ کی چمک کے سامنے چاند کا حسن ماند پڑ گیا—بھلا کون سی رسوائی باقی رہی جو تم نے رخِ ماہ کو نہ دی ہو؟ یہ محبوب کے حسن کی وہ انتہا ہے جس کے آگے فطرت کا سب سے خوبصورت روپ بھی سر جھکا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.