غزل

گر گئی ہے اُسکی مژگاں کی جھپک پیکان میں

گر گئی ہے اُسکی مژگاں کی جھپک پیکان میں
نظیر اکبرآبادی· Ghazal· 7 shers

Source: Kulliyaat-e-Nazeer Akbarabadi (1922) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
गिर गई है उसकी मिज़गाँ की झपक पैकान में कल अगर चाहे तो हमदम उसको ठहरी कुछ हाँ में
گر گئی ہے اُسکی مژگاں کی جھپک پیکان میں کل اگر چاہے تو ہمدم اُسکو ٹھری کچھ ہاں میں
اُس کی پلکوں کی جھپک تیر کی نوک پر آ گری ہے؛ کل اگر وہ چاہے تو، اے ہمدم، اُسے کسی ہلکی سی 'ہاں' میں ٹھہرا لے۔
2
कुछ तो जाता दिल से ख़ार-ए-बेक़रारी का ख़लिश काश वो नोक-ए-मिज़ह देती क़रार इक पल में
کچھ تو جاتا دل سے خار بیقراری کا خلش کاش وہ نوک مژہ دیتی قرار اک پل میں
کاش بے قراری کے کانٹے کی چبھن دل سے کچھ تو کم ہوتی؛ کاش اُس کی پلک کی نوک ایک پل میں مجھے قرار دے دیتی۔
3
वो कफ़-ए-पा पहने सिलाई हो नाज़ुक नर्म नर्म क्या जताती हो तो अपनी नर्मी ऐ मख़मल हमें
وہ کف پا پہنے سلائی ہو نازک نرم نرم کیا جتاتی ہو تو اپنی نرمی اے مخمل ہمیں
وہ پاؤں کے تلوے جو کبھی نازک اور نرم سلائی پہنے ہوئے تھے، اے مخمل تو ان کے سامنے اپنی نرمی کا کیا دکھاوا کرتی ہے۔
4
इस परी-रू की गली में या निहाँ या आशकार जिस तरह से हो सके ऐ हम-नशीं ले चल हमें
اس پریرو کی گلی میں یا نہاں یا آشکار جس طرح سے ہو سکے اے ہمنشیں لے چل ہمیں
اس پری جیسے چہرے والے کی گلی میں، چاہے چھپ کر ہو یا کھلم کھلا، جس طرح بھی ممکن ہو، اے ہم نشیں، مجھے وہاں لے چل۔
5
हम तो हों कैफ़ी तिरे पर क्या करें आ चश्म-ए-यार होश में आने नहीं देता तिरा काजल हमें
ہم تو ہوں کیفی ترے پر کیا کریں آچشم یار ہوش میں آنے نہیں دیتا ترا کاجل ہمیں
ہم تو تیرے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں، اے یار کی آنکھ، اب ہم کیا کریں۔ تیرا کاجل ہمیں ہوش میں آنے ہی نہیں دیتا۔
6
दिल ख़म-ए-अबरू को देते हैं तो किस किस पेच से दाम में लेता है उस काकुल का इक इक बल हमें
دل خم ابرو کو دیتے ہیں تو کس کس پیچ سے دام میں لیتا ہے اُس کاکل کا اک اک بل ہمیں
جب ہم اپنا دل اُس کی کمان جیسی ابرو کو دیتے ہیں تو وہ کتنے کتنے پیچ سے جاتا ہے؛ اُس کاکل کا ہر ایک بل ہمیں اپنے دام میں پھانس لیتا ہے۔
7
हम तो उसके चाहने वाले हैं मुद्दत से नज़ीर और नया लगता हो अब-तक वो सनम चंचल हमें
ہم تو اُسکے چاہنے والے ہیں مدت سے نظیرؔ اور نیا لگتا ہو ابتک وہ صنم چنچل ہمیں
اے نظیرؔ، ہم تو مدت سے اُس کے چاہنے والے ہیں، پھر بھی وہ چنچل صنم ہمیں اب تک نیا سا لگتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.