اس پریرو کی گلی میں یا نہاں یا آشکار — نظیر اکبرآبادی
“Into the lane of this fairy-faced one, be it hidden or in open sight, by whatever means it can be done, O companion, lead me there tonight.”
معنی
اس پری جیسے چہرے والے کی گلی میں، چاہے چھپ کر ہو یا کھلم کھلا، جس طرح بھی ممکن ہو، اے ہم نشیں، مجھے وہاں لے چل۔
تشریح
اس شعر میں عاشق اپنے ہمنشیں سے التجا کرتا ہے کہ اُس پری رو محبوب کی گلی تک کسی بھی طرح پہنچا دے — چاہے چھپ کر یا سرِ عام۔ 'نہاں یا آشکار' کا یہ جوڑا ظاہر کرتا ہے کہ عشق میں انسان ہر شرم و پردے سے بے پروا ہو جاتا ہے، بس محبوب تک رسائی ہی واحد مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی بے بسی اور شدتِ شوق اس شعر کی اصل جان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
