کچھ تو جاتا دل سے خار بیقراری کا خلش — نظیر اکبرآبادی
“At least some of the restless thorn's torment would leave my heart— Would that the tip of her eyelash granted peace in a single moment.”
معنی
کاش بے قراری کے کانٹے کی چبھن دل سے کچھ تو کم ہوتی؛ کاش اُس کی پلک کی نوک ایک پل میں مجھے قرار دے دیتی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنی بیقراری کو ایک کانٹے کی طرح محسوس کرتا ہے جو دل میں چبھتا رہتا ہے اور اسے چین نہیں لینے دیتا۔ وہ چاہتا ہے کہ محبوب کی پلکوں کی نوک — جو نازک اور باریک ہے — کسی طرح اس کانٹے کو نکال دے اور ایک پل کے لیے ہی سہی اسے سکون مل جائے۔ یہیں شعر کی خوبصورتی ہے کہ درد اور اس کا علاج دونوں نوکیلے ہیں، اور وہی نزاکت جو زخمی کرتی ہے، وہی راحت بھی عطا کر سکتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
