ہم تو ہوں کیفی ترے پر کیا کریں آچشم یار — نظیر اکبرآبادی

ہم تو ہوں کیفی ترے پر کیا کریں آچشم یار ہوش میں آنے نہیں دیتا ترا کاجل ہمیں

“Intoxicated by you we are—O eye of the beloved, what can we do? Your kohl will not let us come back to our senses at all.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

ہم تو تیرے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں، اے یار کی آنکھ، اب ہم کیا کریں۔ تیرا کاجل ہمیں ہوش میں آنے ہی نہیں دیتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی آنکھوں کے نشے میں ڈوبا ہوا ہے اور بے بسی سے کہتا ہے کہ اب وہ کیا کرے۔ تیرے کاجل کی سیاہی ایسا جادو ہے کہ وہ اسے ہوش میں آنے ہی نہیں دیتی، یعنی محبوب کی نظر کا ہر پہلو عاشق کو مدہوش رکھتا ہے۔ یہاں کاجل محض سنگھار نہیں بلکہ عشق کے اُس نشے کی علامت ہے جس سے نکلنا ناممکن ہے، اور یہی بے خودی عاشق کے لیے سب سے میٹھی حالت بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.