وہ کف پا پہنے سلائی ہو نازک نرم نرم — نظیر اکبرآبادی

وہ کف پا پہنے سلائی ہو نازک نرم نرم کیا جتاتی ہو تو اپنی نرمی اے مخمل ہمیں

“Those soles once wore a stitching soft, so delicate and tender— what softness do you boast to us, O velvet, in surrender?”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

وہ پاؤں کے تلوے جو کبھی نازک اور نرم سلائی پہنے ہوئے تھے، اے مخمل تو ان کے سامنے اپنی نرمی کا کیا دکھاوا کرتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر مخمل سے مخاطب ہے اور شوخی سے کہتا ہے کہ تو ہم پر اپنی نرمی کا کیا رعب جماتی ہے؟ محبوب کے پاؤں کے تلوے اتنے نازک اور ملائم ہیں کہ دنیا کی سب سے نرم شے بھی ان کے سامنے ہیچ ہے۔ یہ عاشق کا وہ لطیف مبالغہ ہے جو محبوب کی ہر ادا کو اتنا بلند کر دیتا ہے کہ مخمل بھی شرمندہ ہو کر سر جھکا لے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.