دل خم ابرو کو دیتے ہیں تو کس کس پیچ سے — نظیر اکبرآبادی
“When I offer my heart to the arched curve of her brow, with what twists and turns it goes; each single coil of that tress ensnares me in its net.”
معنی
جب ہم اپنا دل اُس کی کمان جیسی ابرو کو دیتے ہیں تو وہ کتنے کتنے پیچ سے جاتا ہے؛ اُس کاکل کا ہر ایک بل ہمیں اپنے دام میں پھانس لیتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کے دو حسین اعضا میں الجھا ہوا ہے — ایک کمان جیسی خمیدہ ابرو اور دوسری گھونگھریالی زلف۔ جب وہ اپنا دل اُس خم دار ابرو کو سونپنے چلتا ہے تو دیکھو، دل کتنے پیچ کھا کر، کتنی ٹیڑھی راہ سے وہاں پہنچتا ہے؛ اور اُدھر محبوب کی زلف کا ہر ایک بل گویا ایک جال ہے جو اُسے بار بار اپنے دام میں لے لیتا ہے۔ یہاں خمیدگی اور پیچ و تاب عشق کی الجھنوں کا خوبصورت استعارہ ہیں — محبوب کا حسن سیدھا سادہ نہیں بلکہ گھماؤ دار ہے، اور عاشق اِنہی خموں میں کھو کر قید ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
