گر گئی ہے اُسکی مژگاں کی جھپک پیکان میں — نظیر اکبرآبادی

گر گئی ہے اُسکی مژگاں کی جھپک پیکان میں کل اگر چاہے تو ہمدم اُسکو ٹھری کچھ ہاں میں

“The flutter of her eyelashes has fallen upon the arrow's tip; Tomorrow, if my friend so wills, let it rest awhile in some faint 'yes'.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

اُس کی پلکوں کی جھپک تیر کی نوک پر آ گری ہے؛ کل اگر وہ چاہے تو، اے ہمدم، اُسے کسی ہلکی سی 'ہاں' میں ٹھہرا لے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کی پلکوں کی ہلکی سی جھپک کو تیر کی نوک پر گری ہوئی بتاتا ہے — یعنی اُس کی نگاہ کا ہر اشارہ کسی جان لیوا تیر کی طرح دل میں اُتر جاتا ہے۔ مگر اِسی زخم میں اُمید بھی پوشیدہ ہے: اگر کل وہ چاہے تو وہی جھپک، وہی ادھوری رضامندی کسی نرم سے 'ہاں' میں ٹھہر سکتی ہے۔ یہاں محبت کی وہ نازک کشمکش ہے جہاں انکار اور اقرار کے بیچ کی لرزتی ہوئی جھجک ہی عاشق کے لیے سب کچھ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.