غزل

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers· radif: मैं नशे में हूँ

یہ غزل شاعر کی سرشاری، مدہوشی اور کیفیتِ بے خودی کی عکاس ہے، جس میں وہ اپنے دوستوں سے اپنی وارفتگی پر معذرت طلب کرتا ہے۔ اس میں قلندرانہ بے نیازی اور وجدانی مستی کا نہایت دلکش و پُرتاثیر اظہار ملتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

ابھی نغمہ نہیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
यारो मुझे मुआ'फ़ रखो मैं नशे में हूँ अब दो तो जाम ख़ाली ही दो मैं नशे में हूँ
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
دوستو مجھے معاف رکھو کیونکہ میں نشے میں ہوں؛ اور اگر اب مجھے جام دینا ہی ہے تو خالی ہی دو، کیونکہ میں پہلے ہی مدہوش ہوں۔
2
एक एक क़ुर्त दौर में यूँ ही मुझे भी दो जाम-ए-शराब पुर न करो मैं नशे में हूँ
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
شراب کے اس دور میں مجھے بھی بس ایک ایک گھونٹ دے دو، میرا پیالہ پورا مت بھرو کیونکہ میں پہلے ہی نشے میں ہوں۔
3
मस्ती से दरहमी है मिरी गुफ़्तुगू के बीच जो चाहो तुम भी मुझ को कहो मैं नशे में हूँ
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
مستی کی وجہ سے میری باتوں میں بے ترتیبی آ گئی ہے، تم بھی مجھے جو چاہو کہہ لو کیونکہ میں اس وقت نشے میں ہوں۔
4
या हाथों हाथ लो मुझे मानिंद-ए-जाम-ए-मय या थोड़ी दूर साथ चलो मैं नशे में हूँ
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
یا تو مجھے شراب کے جام کی طرح ہاتھوں ہاتھ لے لو، یا پھر تھوڑی دور میرے ساتھ چلو کیونکہ میں نشے میں ہوں۔
5
मा'ज़ूर हूँ जो पाँव मिरा बे-तरह पड़े तुम सरगिराँ तो मुझ से न हो मैं नशे में हूँ
معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
مجھے معذور سمجھیے اگر میرا پاؤں لڑکھڑا رہا ہے، مجھ سے ناراض مت ہوئیے کیونکہ میں نشے میں ہوں۔
6
भागी नमाज़-ए-जुमा तो जाती नहीं है कुछ चलता हूँ मैं भी टुक तो रहो मैं नशे में हूँ
بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں
جمعہ کی نماز کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی ہے، ذرا ٹھہرو میں بھی چلتا ہوں، ابھی میں نشے میں ہوں۔
7
नाज़ुक-मिज़ाज आप क़यामत हैं 'मीर' जी जूँ शीशा मेरे मुँह न लगो मैं नशे में हूँ
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں
اے میر جی! آپ حد سے زیادہ نازک مزاج ہیں۔ شیشے کی طرح مجھ سے منہ نہ لگائیں، کیونکہ میں نشے میں ہوں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.