بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ — میر تقی میر

بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں

“The Friday prayer is not running away anywhere; wait just a moment, I too shall come—I am intoxicated.”

— میر تقی میر

معنی

جمعہ کی نماز کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی ہے، ذرا ٹھہرو میں بھی چلتا ہوں، ابھی میں نشے میں ہوں۔

تشریح

یہ شعر روایتی رندانہ بے باکی اور شوخی کی ایک لاجواب مثال ہے۔ شاعر اپنے متقی ساتھیوں سے انتہائی بے تکلفی سے کہتا ہے کہ جمعہ کی نماز کہیں بھاگی نہیں جا رہی، ذرا دم لو، نشے کے خمار سے سنبھل لوں تو میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ بظاہر اس پُرلطف عذر کے پردے میں ظاہری عبادت کی پابندی اور عشق و مستی کی بے خودی کا بڑا دلکش ٹکراؤ دکھایا گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.