معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے — میر تقی میر
“Forgive me if my footsteps falter and wildly stray; do not turn away in anger, for I am intoxicated.”
معنی
مجھے معذور سمجھیے اگر میرا پاؤں لڑکھڑا رہا ہے، مجھ سے ناراض مت ہوئیے کیونکہ میں نشے میں ہوں۔
تشریح
اس خوبصورت شعر میں شاعر اپنے محبوب سے بڑی نزاکت اور عاجزی کے ساتھ معذرت خواہ ہے کہ اگر اس کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں تو اس پر خفا نہ ہوا جائے۔ بظاہر یہ مے نوشی کا خمار لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ عشق کا وہ بے پایاں سرور ہے جس نے عاشق کو ازخود رفتہ کر دیا ہے۔ وہ محبوب سے التجا کرتا ہے کہ اس کی اس بے خودی کو بے ادبی نہ سمجھا جائے، بلکہ محبت کی مدہوشی جان کر معاف کر دیا جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
