ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو — میر تقی میر
“Grant me too just a single sip as the cup goes round; fill not the goblet to the brim, for I am already intoxicated.”
معنی
شراب کے اس دور میں مجھے بھی بس ایک ایک گھونٹ دے دو، میرا پیالہ پورا مت بھرو کیونکہ میں پہلے ہی نشے میں ہوں۔
تشریح
اس شعر میں رندانہ محفل کا ایک بے حد خوبصورت اور دلنشیں منظر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر ساقی سے گزارش کرتا ہے کہ جب دور چلے تو اسے بھی بس ایک گھونٹ دے دیا جائے، پورا جام بھرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی عشق اور یادوں کی سرمستی میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ جب دل پہلے سے ہی داخلی کیف و سرور سے لبریز ہو، تو محفل کا بھرم رکھنے کے لیے محض ایک قطرہ ہی کافی ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
