نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی — میر تقی میر

نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں

“Your temper is so fragile, Mir-ji, touchy beyond measure; like a wine-glass, do not touch my lips, for I am drunk.”

— میر تقی میر

معنی

اے میر جی! آپ حد سے زیادہ نازک مزاج ہیں۔ شیشے کی طرح مجھ سے منہ نہ لگائیں، کیونکہ میں نشے میں ہوں۔

تشریح

اس شعر میں میرؔ نے ’منہ لگنا‘ کے محاورے سے کمال کا حسن پیدا کیا ہے، جس کا ایک مطلب بحث و تکرار کرنا ہے اور دوسرا جام کا لبوں سے مس ہونا۔ وہ اپنے یا محبوب کے نازک مزاج ہونے کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کرتے ہیں کہ میں نشے میں بے خود ہوں، اس لیے مجھ سے نہ الجھو۔ یہ ایک دلفریب اور وارفتہ سی کیفیت ہے، جہاں دو نازک اور پرجوش طبیعتیں آپس میں ٹکرا کر شیشے کی طرح ٹوٹنے کے خطرے میں ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.