مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ — میر تقی میر

مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں

“Intoxication casts disorder through my speech; say what you will to me, for I am drunk.”

— میر تقی میر

معنی

مستی کی وجہ سے میری باتوں میں بے ترتیبی آ گئی ہے، تم بھی مجھے جو چاہو کہہ لو کیونکہ میں اس وقت نشے میں ہوں۔

تشریح

شاعر اپنے بے ربط اور الجھے ہوئے بولوں کا اعتراف کر رہا ہے جو عشق یا سرور کی مستی میں بکھر گئے ہیں۔ وہ محبوب کو کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ تم جو چاہو مجھے کہہ لو، کیونکہ میں اس وقت ہوش و خرد کے دائرے سے باہر ہوں۔ اس شعر میں ایک دلکش بے خودی اور سپردگی ہے، جہاں انسان تمام تر رکھ رکھاؤ بھلا کر بس اپنی ہی سرشار کیفیت میں مگن ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.