یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں — میر تقی میر
“Forgive me, dear friends, for I am intoxicated; if you must hand me a cup now, let it be empty, for I am drunk.”
معنی
دوستو مجھے معاف رکھو کیونکہ میں نشے میں ہوں؛ اور اگر اب مجھے جام دینا ہی ہے تو خالی ہی دو، کیونکہ میں پہلے ہی مدہوش ہوں۔
تشریح
جگر مراد آبادی اس شعر میں سرشاری اور خود فراموشی کی اس کیفیت کو بیان کر رہے ہیں جہاں دل محبت یا زندگی کے خمار سے پہلے ہی لبریز ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ دوستوں سے بڑی اپنائیت سے معذرت چاہتے ہیں کہ اب مزید مے نوشی کی گنجائش نہیں، مگر محفل کا بھرم اور یاروں کا ساتھ نبھانے کے لیے خالی جام لینے پر بھی راضی ہیں۔ یہ دراصل باطن کے اس وجدان کا اظہار ہے جہاں روح اپنے ہی نشے میں اتنی مگن ہو جائے کہ ظاہری پیمانوں کی حاجت ہی باقی نہ رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
