غزل
वहशत थी हमें भी वही घर-बार से अब तक
वहशत थी हमें भी वही घर-बार से अब तक
یہ غزل بتاتی ہے کہ شاعر کو اپنے گھر-بار سے ایک عجیب سی بے چینی یا وحشت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنے دل میں کسی کے لیے ایک گہرا، دائمی پیار رکھتا ہے، جو اسے مسلسل بے چین اور جذباتی پریشانی میں رکھتا ہے۔ آخر میں، اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ اس درد اور تڑپ کو سہنا ہی اس کا حال رہا ہے۔
نغمہ سنیں
1
वहशत थी हमें भी वही घर-बार से अब तक
सर मारे हैं अपने दर ओ दीवार से अब तक
وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
ہمیں بھی اپنے گھر-بار کے دکھ سے اب تک وہشات ہوئی ہے، اور اپنے ہی در و دیوار سے اب تک سر مار چکے ہیں۔
2
मरते ही सुना उन को जिन्हें दिल-लगी कुछ थी
अच्छा हुआ कोई इस आज़ार से अब तक
مرتے ہی سنا ان کو جنہیں دل لگی کچھ تھی
اچھا ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
میں نے انہیں ان لوگوں کے بارے میں بات کرتے سنا جو انہیں دل سے پیارے تھے، 'یہ اچھی بات ہے کہ اب کوئی اس اذیت سے آزاد ہو گیا۔'
3
जब से लगी हैं आँखें खुली राह तके हैं
सोए नहीं साथ उस के कभू प्यार से अब तक
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں
سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
جب سے میری آنکھیں کھلی ہیں اور میں نے راہ دیکھنا شروع کیا ہے، میں کبھی سوئی نہیں، اور آج تک میں تمہارے پیار میں ہوں۔
4
आया था कभू यार सो मामूल हम उस के
बिस्तर पे गिरे रहते हैं बीमार से अब तक
آیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کے
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
جب محبوب کبھی آیا تھا، ہم بس ایسے ہی تھے، / اس کے بستر پر بیمار سے اب تک پڑے رہتے ہیں۔
5
बद-अहदियों में वक़्त-ए-वफ़ात आन भी पहुँचा
वादा न हुआ एक वफ़ा यार से अब तक
بد عہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا
وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
بَد اَہدیوں میں وقْتِ وِفَات آ ہی پہنچا، اور یار سے وفا کا وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا۔
6
है क़हर ओ ग़ज़ब देख तरफ़ कुश्ते के ज़ालिम
करता है इशारत भी तू तलवार से अब तक
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم
کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
اے قہر و غضب کو دیکھتے ہوئے، اے قشتے کے ظالم، تو اب تک تلوار سے اشارہ کرتا ہے۔
7
कुछ रंज-ए-दिली 'मीर' जवानी में खिंचा था
ज़र्दी नहीं जाती मिरे रुख़्सार से अब तक
کچھ رنج دلی میرؔ جوانی میں کھنچا تھا
زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
کچھ رنجِ دلی، 'میر'، جوانی میں کھنچا تھا، مگر یہ پیلا پن آج بھی میرے رخسار سے نہیں جاتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
