آیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کے — میر تقی میر

آیا تھا کبھو یار سو معمول ہم اس کے بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک

“When the beloved once came, we were merely like that, / Lying sick on his bed, ever since.”

— میر تقی میر

معنی

جب محبوب کبھی آیا تھا، ہم بس ایسے ہی تھے، / اس کے بستر پر بیمار سے اب تک پڑے رہتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر ایک گہرے جذباتی تعلق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت تھا جب محبوب کا آنا ایک معمول تھا.... لیکن اس کے بعد سے وہ اس بستر پر بیمار पड़े हैं।

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.