غزل

उस का ख़याल चश्म से शब ख़्वाब ले गया

उस का ख़याल चश्म से शब ख़्वाब ले गया
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

اس کا خیال آنکھوں سے شب و خواب لے گیا۔ یہ غزل محبت کی طاقت اور یادوں کے اثر کو بیان کرتی ہے کہ عشق کا نشہ شخص کو نیند، ہوش اور زندگی کی سکون سے بھی دور کر دیتا ہے۔ یہ عشق کے جنونی سیلاب کا ایک منظر ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
उस का ख़याल चश्म से शब ख़्वाब ले गया क़स्मे कि इश्क़ जी से मिरे ताब ले गया
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا؛ قسمے کہ عشق نے میرے تاب لے گیا۔
2
किन नींदों अब तू सोती है ऐ चश्म-ए-गिर्या-नाक मिज़्गाँ तो खोल शहर को सैलाब ले गया
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
کِن نیندوں اب تُو سوتی ہے اے چشْمِ اَے-گِریٰ-ناک، مِزگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا. اس کا لغوی مطلب ہے کہ اے آنسوؤں کی آنکھ، تُو اب کن نیندوں میں سو رہی ہے؟ یہ پلکیں کھول دے، کیونکہ شہر کو ایک سیلاب لے گیا ہے۔
3
आवे जो मस्तबा में तो सुन लो कि राह से वाइज़ को एक जाम-ए-मय-ए-नाब ले गया
آوے جو مصطبہ میں تو سن لو کہ راہ سے واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
جو بھی مستبا میں آ رہا ہے، تو سن لو کہ راہ سے شاعر نے ایک جامِ مےِ ناب لے گیا۔
4
ने दिल रहा बजा है न सब्र ओ हवास ओ होश आया जो सैल-ए-इश्क़ सब अस्बाब ले गया
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا
جب عشق کا پہاڑ آتا ہے، تو نہ دل رہا باقی ہے، نہ صبر، نہ حواس، نہ ہوس، نہ ہوش؛ یہ تمام حالات لے جاتا ہے۔
5
मेरे हुज़ूर शम्अ ने गिर्या जो सर किया रोया मैं इस क़दर कि मुझे आब ले गया
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا، اس کا مطلب ہے کہ میرے مالک (حضور) کے سامنے، اس دیے (شمع) نے جو غم کے آنسو بہائے، میں اتنا رویا کہ اس نے میری زندگی (آب) لے گئی۔
6
अहवाल उस शिकार ज़ुबूँ का है जाए रहम जिस ना-तवाँ को मुफ़्त न क़स्साब ले गया
احوال اس شکار زبوں کا ہے جائے رحم جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا
احوال اس شکار زباں کا ہے، جائے رحم، جس نے نا-توان کو مفت نہ قصاب لے گیا۔
7
मुँह की झलक से यार के बेहोश हो गए शब हम को 'मीर' परतव-ए-महताब ले गया
منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے شب ہم کو میرؔ پرتو مہتاب لے گیا
منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے، شب ہم کو 'میر' پردۂ مہتاب لے گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہارے چہرے کی ایک جھلک سے میرا محبوب بے ہوش ہو گیا، اور آج رات، 'میر' مجھے چاندنی کے پردے میں لے گئے۔ یہ شعر محبوب کی شدید سحر کو بیان کرتا ہے، جہاں ایک نظر ہی بے ہوشی کا سبب بنتی ہے اور رات کا ماحول شاعر کو ایک خوابیدہ کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.