منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے — میر تقی میر
“With just a glimpse of your face, my beloved fainted, Tonight, you, 'Mir', carried me away with the curtain of the moon.”
معنی
منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے، شب ہم کو 'میر' پردۂ مہتاب لے گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہارے چہرے کی ایک جھلک سے میرا محبوب بے ہوش ہو گیا، اور آج رات، 'میر' مجھے چاندنی کے پردے میں لے گئے۔ یہ شعر محبوب کی شدید سحر کو بیان کرتا ہے، جہاں ایک نظر ہی بے ہوشی کا سبب بنتی ہے اور رات کا ماحول شاعر کو ایک خوابیدہ کیفیت میں لے جاتا ہے۔
تشریح
यह शेर महबूब के नशीले नज़ारे का कमाल बयान करता है। महबूब की झलक से आशिक़ बेख़ुदी हो गए और चाँदनी के परदे में उन्हें कहीं और ले गए।
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
