غزل
मुए सहते सहते जफ़ा-कारियाँ
मुए सहते सहते जफ़ा-कारियाँ
یہ غزل زندگی کے مشکل حالات اور ظُلم کو سہتے سہتے ایک قسم کی وفاداری اور زندگی کے جدوجہد کو بیان کرتی ہے۔ اس میں جدائی اور درد کے تجربات کو شاعری کے ذریعے بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک قسم کی خود قبولیت اور تقدیر کا جذبہ موجود ہے۔
نغمہ سنیں
1
मुए सहते सहते जफ़ा-कारियाँ
कोई हम से सीखे वफ़ादारियाँ
موے سہتے سہتے جفا کاریاں
کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
مصیبتیں سہتے سہتے جفا کاریاں، کوئی ہم سے سیکھے وفاداریان۔
2
हमारी तो गुज़री इसी तौर उम्र
यही नाला करना यही ज़ारियाँ
ہماری تو گزری اسی طور عمر
یہی نالہ کرنا یہی زاریاں
ہماری تو گزری اسی طُور عمر، یہی نالہ کرنا یہی زاریاں۔ اس کا مطلب ہے کہ میری زندگی اسی طرح گزر گئی، اور اس زندگی کے بہاؤ میں ہی یہ عمل کرنا اور یہ خوابوں کے بُنے ہوئے سدا (یا آڑہیں) ہیں، جیسا کہ ایک شاعر اپنی ज़िंदगी का अनुभव बताता है।
3
फ़रिश्ता जहाँ काम करता न था
मिरी आह ने बर्छियाँ मारियाँ
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا
مری آہ نے برچھیاں ماریاں
جہاں فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا، میری آہ نے برچھیاں ماریں۔
4
गया जान से इक जहाँ ले के शोख़
न तुझ से गईं ये दिल-आज़ारियाँ
گیا جان سے اک جہاں لے کے شوخ
نہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
جان سے ایک جہاں لے کے شوخ، ن تجھ سے گئیں یہ دل-آزاریयाँ۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ یہ دل کی تڑپ اور دنیا کی محبت (دل-آزاریयाँ) جب جان سے ایک جہاں لے کر شوخ ہو گئیں، تو وہ تم سے دور چلی گئیں۔
5
कहाँ तक ये तकलीफ़-ए-मा ला-युताक़
हुईं मुद्दतों नाज़-बर्दारियाँ
کہاں تک یہ تکلیف ما لا یطاق
ہوئیں مدتوں ناز برداریاں
کہاں تک یہ تکلیفِ ما لا یطأق ہوئی؟ مدتوں نازبرداریاں۔
6
ख़त-ओ-काकुल-ओ-ज़ुल्फ़-ओ-अंदाज़-ओ-नाज़
हुईं दाम-ए-रह सद-गिरफ़्तारियाँ
خط و کاکل و زلف و انداز و ناز
ہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں
خط-ओ-کاکل-ओ-زُلف-ओ-انداز-ओ-ناز سے میں عشق کے سفر کی صدیوں کی قید میں گرفتار ہو گیا ہوں۔
7
किया दर्द-ओ-ग़म ने मुझे ना-उमीद
कि मजनूँ को ये ही थीं बीमारियाँ
کیا درد و غم نے مجھے ناامید
کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
کیا درد و غم نے مجھے ناامید کیا، یا مجنوں کو یہی بیماریاں تھیں؟
8
तिरी आश्नाई से ही हद हुई
बहुत की थीं दुनिया में हम यारियाँ
تری آشنائی سے ہی حد ہوئی
بہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
تیرے ایک نظر سے ہی حد ہو گئی میری، کتنے تھے یار دنیا میں میرے۔
9
न भाई हमारी तो क़ुदरत नहीं
खिंचीं 'मीर' तुझ से ही ये ख़्वारियाँ
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
کھنچیں میرؔ تجھ سے ہی یہ خواریاں
اے بھائی، یہ ہماری فطرت نہیں کہ یہ شان و شوکت تجھ سے ہی کھینچی گئی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
