غزل

ऐ अब्र-ए-तर तू और किसी सम्त को बरस

ऐ अब्र-ए-तर तू और किसी सम्त को बरस
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل مایوسی اور تنہائی کے احساس کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اپنی رحمت یا بارش صرف اس ملک پر برسائے۔ یہ نظم ایک ٹوٹے ہوئے دل اور کھوئے ہوئے پیار کا درد دکھاتی ہے، جس میں شاعر اپنی تنہائی اور جذباتی ہلچل کو بیان کرتا ہے، اور خوبصورتی اور سکون کی کھوئی ہوئی یاد کو ترنم کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
ऐ अब्र-ए-तर तू और किसी सम्त को बरस इस मुल्क में हमारी है ये चश्म-ए-तर ही बस
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
اے ابرِ تر، تو کسی اور سمت کو برس، اس ملک میں ہمارا یہ چشمِ تر ہی بس ہے۔
2
हिरमाँ तो देख फूल बिखेरे थी कल सबा इक बर्ग-ए-गुल गिरा न जहाँ था मिरा क़फ़स
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا اک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
حیرؔم نے دیکھا کہ کل کی صبح پھولوں سے بکھری تھی، اور جہاں میرا قفس تھا، وہاں ایک پھول کی پتّی گِری۔
3
मिज़्गाँ भी बह गईं मिरे रोने से चश्म की सैलाब मौज मारे तो ठहरे है कोई ख़स
مژگاں بھی بہہ گئیں مرے رونے سے چشم کی سیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
میرے رونے سے مژگاں بھی بہ گئیں، اے آنسوؤں کے سیلاب، اگر کوئی لہر مارے گی تو کوئی ٹھہرے گا؟
4
मजनूँ का दिल हूँ महमिल-ए-लैला से हूँ जुदा तन्हा फिरूँ हूँ दश्त में जूँ नाला-ए-जरस
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جدا تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
میں مجنوں کا دل ہوں، جو محفلِ لیلیٰ سے جدا ہے؛ میں ایک وادی میں تنہا گھوم رہا ہوں، جہاں کوئی نالہ یا چشمہ نہیں ہے۔
5
ऐ गिर्या उस के दिल में असर ख़ूब ही किया रोता हूँ जब मैं सामने उस के तो दे है हँस
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیا روتا ہوں جب میں سامنے اس کے تو دے ہے ہنس
اے گِریّا، اُس کے دل میں بہت اثر کیا، کہ جب میں سامنے روتا ہوں، تو وہ ہنستے ہے۔
6
उस की ज़बाँ के ओहदे से क्यूँकर निकल सकूँ कहता हूँ एक मैं तो सुनाता है मुझ को दस
اس کی زباں کے عہدے سے کیوں کر نکل سکوں کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
اس کی زبان کے اوہڈے سے میں کیسے نکل سکتا ہوں؟ میں ایک بات کہتا ہوں، مگر وہ مجھے دس باتیں سناتی ہے۔
7
हैराँ हूँ 'मीर' नज़्अ' में अब क्या करूँ भला अहवाल-ए-दिल बहुत है मुझे फ़ुर्सत इक नफ़स
حیراں ہوں میرؔ نزع میں اب کیا کروں بھلا احوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
میں 'میر' نज़्ع' میں حیران ہوں کہ اب کیا کروں، کیونکہ میرے دل کی حالت کو سمجھنے کے لیے میرے پاس ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.