Sukhan AI
غزل

ऐ गुल‌‌‌‌-ए-नौ-दमीदा के मानिंद

ऐ गुल‌‌‌‌-ए-नौ-दमीदा के मानिंद
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبوب کی خوبصورتی یا اہمیت کا موازنہ مختلف تصورات سے کرتی ہے۔ اس میں وفا کی امیدوں کے ٹوٹنے کا درد اور زندگی کی مایوسیوں کا تجربہ بیان کیا گیا ہے۔ شاعر مختلف استعارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک خاص قسم کی خوبصورتی اور کمزوری کو پیش کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गुल‌‌‌‌-ए-नौ-दमीदा के मानिंद है तू किस आफ़रीदा के मानिंद
اے گلِ نو دَمیدہ کے مانند، تو کس آفریدا کے مانند ہے۔
2
हम उमीद-ए-वफ़ा पे तेरी हुए गुंचा-ए-दैर चीदा के मानिंद
ہم امیدِ وفا پر تیری ہوئے گنچأے دائر چیدہ کے مانند۔
3
ख़ाक को मेरी सैर कर के फिरा वो ग़ज़ाल-ए-रमीदा के मानिंद
میری خاک میں سیر کرنے کے بعد، وہ ایک رمیदा غزل کے مانند تھا۔
4
सर उठाते ही हो गए पामाल सब्ज़ा-ए-नौ-दमीदा के मानिंद
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال، سبزا-ئے-نو-دیمدا کے مانند۔
5
कटे रात हिज्र की जो हो नाला तेग़-ए-कशीदा के मानिंद
اگر جدائی کی رات ختم نہ ہو، تو یہ کھینچے ہوئے غم کی ندی کے مانند ہے۔
6
हम गिरफ़्तार-ए-हाल हैं अपने ताइर-ए-पर-बुरीदा के मानिंद
ہم اپنی حالت کے قیدی ہیں، جیسے پرندے جن کے پر ٹوٹے ہوئے ہیں۔
7
दिल तड़पता है अश्क-ए-ख़ूनीं में सैद-ए-दर-ख़ूँ तपीदा के मानिंद
دل تڑپتا ہے اشکِ خونی میں، جیسے کہ وہ جو در کے خُوش سے تپیدہ ہو۔
8
तुझ से यूसुफ़ को क्यूँके निस्बत दें कब शुनीदा हो दीदा के मानिंद
تم سے یوسف سے کیوں نسبت دیں؟ کب سُنیدہ ہو دیدہ کے مانند۔
9
'मीर'-साहिब भी उस के हाँ थे लेक बंदा-ए-ज़र ख़रीदा के मानिंद
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے لےک بندۂ زر خریدا کے مانند یعنی، میر صاحب بھی اس کے آغوش میں پڑے ہوئے بندۂ زر کی طرح خرید لیے گئے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ऐ गुल‌‌‌‌-ए-नौ-दमीदा के मानिंद | Sukhan AI