غزل
ऐ गुल-ए-नौ-दमीदा के मानिंद
ऐ गुल-ए-नौ-दमीदा के मानिंद
یہ غزل محبوب کی خوبصورتی یا اہمیت کا موازنہ مختلف تصورات سے کرتی ہے۔ اس میں وفا کی امیدوں کے ٹوٹنے کا درد اور زندگی کی مایوسیوں کا تجربہ بیان کیا گیا ہے۔ شاعر مختلف استعارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک خاص قسم کی خوبصورتی اور کمزوری کو پیش کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
ऐ गुल-ए-नौ-दमीदा के मानिंद
है तू किस आफ़रीदा के मानिंद
اے گل نو دمیدہ کے مانند
ہے تو کس آفریدہ کے مانند
اے گلِ نو دَمیدہ کے مانند، تو کس آفریدا کے مانند ہے۔
2
हम उमीद-ए-वफ़ा पे तेरी हुए
गुंचा-ए-दैर चीदा के मानिंद
ہم امید وفا پہ تیری ہوئے
غنچۂ دیر چیدہ کے مانند
ہم امیدِ وفا پر تیری ہوئے گنچأے دائر چیدہ کے مانند۔
3
ख़ाक को मेरी सैर कर के फिरा
वो ग़ज़ाल-ए-रमीदा के मानिंद
خاک کو میری سیر کر کے پھرا
وہ غزال رمیدہ کے مانند
میری خاک میں سیر کرنے کے بعد، وہ ایک رمیदा غزل کے مانند تھا۔
4
सर उठाते ही हो गए पामाल
सब्ज़ा-ए-नौ-दमीदा के मानिंद
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال
سبزۂ نو دمیدہ کے مانند
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال، سبزا-ئے-نو-دیمدا کے مانند۔
5
न कटे रात हिज्र की जो न हो
नाला तेग़-ए-कशीदा के मानिंद
نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو
نالہ تیغ کشیدہ کے مانند
اگر جدائی کی رات ختم نہ ہو، تو یہ کھینچے ہوئے غم کی ندی کے مانند ہے۔
6
हम गिरफ़्तार-ए-हाल हैं अपने
ताइर-ए-पर-बुरीदा के मानिंद
ہم گرفتار حال ہیں اپنے
طائر پر بریدہ کے مانند
ہم اپنی حالت کے قیدی ہیں، جیسے پرندے جن کے پر ٹوٹے ہوئے ہیں۔
7
दिल तड़पता है अश्क-ए-ख़ूनीं में
सैद-ए-दर-ख़ूँ तपीदा के मानिंद
دل تڑپتا ہے اشک خونیں میں
صید در خوں تپیدہ کے مانند
دل تڑپتا ہے اشکِ خونی میں، جیسے کہ وہ جو در کے خُوش سے تپیدہ ہو۔
8
तुझ से यूसुफ़ को क्यूँके निस्बत दें
कब शुनीदा हो दीदा के मानिंद
تجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیں
کب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند
تم سے یوسف سے کیوں نسبت دیں؟ کب سُنیدہ ہو دیدہ کے مانند۔
9
'मीर'-साहिब भी उस के हाँ थे लेक
बंदा-ए-ज़र ख़रीदा के मानिंद
میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک
بندۂ زر خریدہ کے مانند
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے لےک
بندۂ زر خریدا کے مانند
یعنی، میر صاحب بھی اس کے آغوش میں پڑے ہوئے
بندۂ زر کی طرح خرید لیے گئے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
