غزل

दिल इश्क़ का हमेशा हरीफ़-ए-नबर्द था

दिल इश्क़ का हमेशा हरीफ़-ए-नबर्द था
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ دل کا عشق ہمیشہ ایک نبرد (سبز) حریف رہا ہے۔ زندگی کے ہر داغ اور درد کی جگہ پر ایک گرد و غبار والا راستہ تھا۔ یہ غزل دل کی شکستگی سے خوفزدہ ہونے کا بیان کرتی ہے، اور جب وہ چن جبیں پر آئی تو وہاں رنگ زرد تھا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दिल इश्क़ का हमेशा हरीफ़-ए-नबर्द था अब जिस जगह कि दाग़ है याँ आगे दर्द था
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
دل ہمیشہ عشق کے جنگ کا میدان رہا، اور اب جہاں بھی کوئی داغ ہے، وہاں درد ہی بسی ہے۔
2
इक गर्द-ए-राह था पय-ए-महमिल तमाम राह किस का ग़ुबार था कि ये दुम्बाला गर्द था
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ کس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
راستے پر ایک گرد تھی، جو محمل کے پاؤں تلے تھی، تمام راہ پر؛ کس کا غبار تھا کہ یہ دمبالا کی گرد تھی۔
3
दिल की शिकस्तगी ने डराए रखा हमें वाँ चीं जबीं पर आई कि याँ रंग ज़र्द था
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیں واں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
دل کی شکستگی نے ہمیں ڈرائے رکھا، جب زبان پر آئی تو کہا، 'یہاں رنگ زرد ہے۔'
4
मानिंद-ए-हर्फ़ सफ़्हा-ए-हस्ती से उठ गया दिल भी मिरा जरीदा-ए-आलम में फ़र्द था
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیا دل بھی مرا جریدۂ عالم میں فرد تھا
لفظوں کا مالک (مانِندِ حرف) وجود کے صفحے سے اٹھ گیا، میرا دل بھی کائنات کے دھاگے میں ایک تنہا ذرہ تھا۔
5
था पुश्ता रेग-ए-बाद ये इक वक़्त कारवाँ ये गर्द-बाद कोई बयाबाँ नवर्द था
تھا پشتہ ریگ باد یہ اک وقت کارواں یہ گرد باد کوئی بیاباں نورد تھا
تھوڑی دور کی ریت کے صحرا سے ایک وقت کا قافلہ گزرا؛ یہ دھول کا بادل کسی ویران صحرا کا نہیں تھا۔
6
गुज़री मुदाम उस की जवानान-ए-मस्त में पीर-ए-मुग़ाँ भी तुर्फ़ा कोई पीर मर्द था
گزری مدام اس کی جوانان مست میں پیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
گُزری مدام اُس کی جوانی کے मद میں؛ پیرِ مُغاں بھی طرفا کوئی پیر مرد تھا ۔ اس کا مطلب ہے کہ محبوب کا جوانی کا نَشہ صرف گزرے ہوئے وقت کا عروج تھا؛ یہاں تک کہ عظیم صوفی بھی ایک سادہ، عاجز محبت کرنے والے مرد تھے۔
7
आशिक़ हैं हम तो 'मीर' के भी ज़ब्त-ए-इश्क़ के दिल जल गया था और नफ़स लब पे सर्द था
عاشق ہیں ہم تو میرؔ کے بھی ضبط عشق کے دل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
اگر ہم عاشق ہیں، تو 'میر' کے بھی زبُتِ عشق نے دل جلا دیا تھا اور نَفَس لب پر سرد تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.