اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ — میر تقی میر

اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ کس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا

“What a dust of the path, under the feet of the carrier, all the way; whose dust was this, that it was a dust of the wild creeper.”

— میر تقی میر

معنی

راستے پر ایک گرد تھی، جو محمل کے پاؤں تلے تھی، تمام راہ پر؛ کس کا غبار تھا کہ یہ دمبالا کی گرد تھی۔

تشریح

یہ شعر اصل میں وجودی (existential) بحث ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ راستے پر جو دھول نظر آتی ہے، وہ تو ہر مسافر کی اپنی ہے، لیکن یہ تو 'ذمبالا' کی دھول ہے! اس سے مراد ہے کہ ہماری شناخت یا ہماری منزل کا غبار، دراصل हमारी अपनी मेहनत से नहीं, बल्कि किसी बाहरी या पिछली चीज़ से जुड़ा हुआ है।

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.