غزل
क्या दिन थे वे कि याँ भी दिल आर्मीदा था
क्या दिन थे वे कि याँ भी दिल आर्मीदा था
یہ غزل گزرے ہوئے حسین دنوں کی یاد کرتی ہے، جب دل میں ایک عجیب سی جوش و خروش اور چہل پہل ہوتی تھی۔ شاعر بتاتا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب ہر گوشہ رونق اور محبت سے بھرپور تھا۔ وہ ان دنوں کو یاد کرتا ہے جب عشق اور دوستی کا ماحول بہت گہرا اور زندہ تھا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्या दिन थे वे कि याँ भी दिल आर्मीदा था
रू-आशियाँ ताइर-ए-रंग-परीदा था
وہ دن کون سے تھے، جب یہاں بھی دل زندہ تھا، اور روائشیں رنگ-پری کی طرح پرندے جیسی تھیں۔
2
क़ासिद जो वाँ से आया तो शर्मिंदा मैं हुआ
बेचारा गिर्या-नाक गरेबाँ दरीदा था
قاصد جو وں سے آیا تو شرمندہ میں ہوا؛ بیچارہ گِریّا-ناک، دریدہ تھا۔
3
इक वक़्त हम को था सर-ए-गिर्या कि दश्त में
जो ख़ार ख़ुश्क था सौ वो तूफ़ाँ रसीदा था
ایک وقت ہم کو تھا سرِ گریہ کہ دشت میں، جو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدا تھا۔
4
जिस सैद-गाह-ए-इश्क़ में यारों का जी गया
मर्ग उस शिकार-गह का शिकार रमीदा था
جس سید گاہِ عشق میں یاروں کا جی گیا، مرغ اُس شکار گاہ کا شکار رمی دا تھا۔
5
कोरी चश्म क्यूँ न ज़ियारत को उस की आए
यूसुफ़ सा जिस को मद्द-ए-नज़र नूर-दीदा था
کوری چشم سے اس کی زیارت کیوں نہ آئے، جیسے یوسف کو نظر کے سہارے نور دیدا تھا۔
6
अफ़्सोस मर्ग सब्र है इस वास्ते कि वो
गुल-ए-हा-ए-बाग़ इशरत-ए-दुनिया नचीदा था
افسوس صرف صبر کا ہے، کیونکہ وہ باغ کا پھول ہے جس نے دنیا کا تماشہ کبھی نہیں دیکھا۔
7
मत पूछ किस तरह से कटी रात हिज्र की
हर नाला मेरी जान को तेग़-ए-कशीदा था
نہ پوچھ کہ جدائی کی رات کیسے گزری، ہر نالہ میری جان پر تلوار کی طرح وار کر رہا تھا۔
8
हासिल न पूछ गुलशन-ए-मशहद का बुल-हवस
याँ फल हर इक दरख़्त का हल्क़-ए-बुरीदा था
گُلشنِ مشہد کی خواہش کے بارے میں نہ پوچھ؛ ہر ایک پھل حلقےِ بُریدا میں تھا۔
9
दिल-ए-बे-क़रार गिर्या-ए-ख़ूनीं था रात 'मीर'
आया नज़र तो बिस्मिल दर-ए-ख़ूँ तपीदा था
دلِ بے قرار، گریہِ خونیں تھا رات 'میر'۔ آیا نظر تو بسمیل درِ خूँ تپیدا تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
