दिल-ए-बे-क़रार गिर्या-ए-ख़ूनीं था रात 'मीर'
आया नज़र तो बिस्मिल दर-ए-ख़ूँ तपीदा था
“The heart, restless and grieving, was like a bloody tear at night, 'Mir' But when I saw you, the door of the beloved was alight.”
— میر تقی میر
معنی
دلِ بے قرار، گریہِ خونیں تھا رات 'میر'۔ آیا نظر تو بسمیل درِ خूँ تپیدا تھا۔
تشریح
یہ شعر شدید جذباتی کرب کی عکاسی ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ رات کے وقت ان کا دل بے قرار ہو کر خون کے آنسو بہا رہا تھا۔ اور جیسے ہی ان کی نظر پڑی، ایک خون سے سجا ہوا دہلیز نظر آیا۔ یہ منظر ہی دل کو توڑ دینے کے لیے کافی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev9 / 9
