غزل
गुल शर्म से बह जाएगा गुलशन में हो कर आब सा
गुल शर्म से बह जाएगा गुलशन में हो कर आब सा
یہ غزل تشبیہات کے ذریعے حسن و جمال کی شدت کو بیان کرتی ہے، جس میں محبوب کی نزاکت کو گلاب، چاند، اور سرخ ہونٹوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مرکزی خیال محبوب کے حسن کے اثر کی گہرائی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اس کی شرم سے پورا باغ مہک اٹھے گا۔ یہ غزل عشق کی شدید کیفیت اور محبوب کے دلکشی کے نشے کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
गुल शर्म से बह जाएगा गुलशन में हो कर आब सा
बुर्के से गर निकला कहीं चेहरा तिरा महताब सा
گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا
برقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا
گُل شرم سے بہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا،
برکے سے گر نکلا کہیں چہرہ تیرا مہتاب سا۔
2
गुल-बर्ग का ये रंग है मर्जां का ऐसा ढंग है
देखो न झुमके है पड़ा वो होंट लाल-ए-नाब सा
گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے
دیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا
یہ گل برگ کا رنگ ہے اور مرجان کا انداز ہے؛ دیکھو، جھومکے اور ہونٹ، جو نوب کے برابر سرخ ہیں۔
3
वो माया-ए-जाँ तो कहीं पैदा नहीं जों कीमिया
मैं शौक़ की इफ़रात से बेताब हूँ सीमाब सा
وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا
میں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا
وہ مایاِ جان تو کہیں پیدا نہیں جون کیمیا۔ میں شوق کی افراط سے بےتاب ہوں سمیاب سا۔
4
दिल ताब ही लाया न टुक ता याद रहता हम-नशीं
अब 'ऐश रोज़-ए-वस्ल का है जी में भूला ख़्वाब सा
دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں
اب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا
دل میں ابھی بھی تیری یاد رہتی ہے، جیسے وصال کے دن کا نشہ دل میں ایک بھولے خواب کی طرح ہو۔
5
सन्नाहटे में जान के होश-ओ-हवास-ओ-दम न था
अस्बाब सारा ले गया आया था इक सैलाब सा
سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا
اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا
سناحٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہیں تھا، اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا۔
6
हम सर-कशी से मुद्दतों मस्जिद से बच बच कर चले
अब सज्दे ही में गुज़रे है क़द जो हुआ मेहराब सा
ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے
اب سجدے ہی میں گزرے ہے قد جو ہوا محراب سا
ہم سر-کشی سے مُدّتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے، اب سجدے ہی میں گزرے ہے قد جو ہوا محراب سا۔ (یعنی، میں طویل عرصے تک سر-کشی اور مسجد سے دور بھٹکتا رہا، مگر اب میرا قد سجدے میں گزرنے سے محراب جیسا ہو گیا ہے۔)
7
थी 'इश्क़ की वो इब्तिदा जो मौज सी उट्ठी कभू
अब दीदा-ए-तर को जो तुम देखो तो है गिर्दाब सा
تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو
اب دیدۂ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
وہ عشق کی وہ ابتدا جو لہر سی اٹھی کبھی، اب دیدارِ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
8
बहके जो हम मस्त आ गए सौ बार मस्जिद से उठा
वा'इज़ को मारे ख़ौफ़ के कल लग गया जुल्लाब सा
بہکے جو ہم مست آ گئے سو بار مسجد سے اٹھا
واعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا
کتنی بار ہم بہہ کر مست آ گئے، کہ جب ہم مسجد سے اٹھے تو واعظ کو خوف کے مارے ایسا لگا جیسے سونے کی لڑی۔
9
रख हाथ दिल पर 'मीर' के दरयाफ़्त कर क्या हाल है
रहता है अक्सर ये जवाँ कुछ इन दिनों बेताब सा
رکھ ہاتھ دل پر میرؔ کے دریافت کر کیا حال ہے
رہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا
دل پر ہاتھ رکھ کر میر سے حال پوچھنا، اور یہ کہنا کہ یہ نوجوان اکثر آج کل بےتاب رہتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
