تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو
اب دیدۂ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
“What was that beginning of love, which rose like a wave, never again Now when I see your face, it is like a whirlpool.”
— میر تقی میر
معنی
وہ عشق کی وہ ابتدا جو لہر سی اٹھی کبھی، اب دیدارِ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
تشریح
یہ شعر عشق کے بڑھتے ہوئے جذبات کو بیان کرتا ہے۔ شروع میں عشق کی پہلی کرنیں ایک نرم لہر ہوتی ہیں، مگر محبوب کا دیدار ہو جائے تو وہ لہر ایک خطرناک، گھما دینے والے گرداب میں بدل جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
