वो माया-ए-जाँ तो कहीं पैदा नहीं जों कीमिया
मैं शौक़ की इफ़रात से बेताब हूँ सीमाब सा
“That illusion of the soul, where can it be created, like alchemy? I am restless, like a boundary, due to an excess of desire.”
— میر تقی میر
معنی
وہ مایاِ جان تو کہیں پیدا نہیں جون کیمیا۔ میں شوق کی افراط سے بےتاب ہوں سمیاب سا۔
تشریح
یہ شعر عشق کی وہ کیفیت بیان کرتا ہے جو کسی کیمیا سے نہیں پائی جا سکتی۔ शायर فرماتے ہیں کہ محبوب کی روح کا جادو کوئی فارمولا نہیں، بلکہ وہ تو اپنے شدید شوق کی انتہا سے بے قرار ہیں۔
