غزل

कल चमन में गुल-ओ-समन देखा

कल चमन में गुल-ओ-समन देखा
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک خوبصورت چمن کے منظر نامے سے شروع ہوتی ہے، جہاں شاعر پھولوں اور خوشبو (گل-و-سمن) کا ذکر کرتا ہے۔ اس میں وہ بیان کرتا ہے کہ کیسے ایک عام باغ بھی عاشقوں کا اپنا 'جلا-و-وطن' بن جاتا ہے، جو گہرے جذبات اور یادوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ اشعار میں عشق کے درد اور دل کے زخموں کے دیرپا اثر پر غور کیا گیا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कल चमन में गुल-ओ-समन देखा आज देखा तो बाग़ बन देखा
کل چمن میں گل و سمن دیکھا آج دیکھا تو باغ بن دیکھا
کل چمن میں گل و سمن دیکھا، آج دیکھا تو باغ بن دیکھا۔
2
क्या है गुलशन में जो क़फ़स में नहीं आशिक़ों का जिला-वतन देखा
کیا ہے گلشن میں جو قفس میں نہیں عاشقوں کا جلا وطن دیکھا
گلشن میں کیا ہے جو قفس میں نہیں، عاشقوں کا ضلع-वतन دیکھا۔
3
ज़ौक़ पैकान-ए-तीर में तेरे मुद्दतों तक जिगर ने छिन देखा
ذوق پیکان تیر میں تیرے مدتوں تک جگر نے چھن دیکھا
تیرے تیر کے نشے میں، میرا دل بہت طویل عرصے تک تڑپتا رہا۔
4
घर के घर जलते थे पड़े तेरे दाग़-ए-दिल देखे बस चमन देखा
گھر کے گھر جلتے تھے پڑے تیرے داغ دل دیکھے بس چمن دیکھا
تیرے داغِ دل کی یادوں سے گھر گھر جلتے تھے، مگر میں نے بس چمن دیکھا اور دل پر لگے داغ کو بھول دیا۔
5
एक चश्मक-ए-दो-सद सिनान-ए-मिज़ा इस नुकीले का बाँकपन देखा
ایک چشمک دو صد سنان مژہ اس نکیلے کا بانکپن دیکھا
ایک چشمۂ دو صد سنان کے، اس نوکیلے پن کی معصومیت کو دیکھا۔
6
शुक्र ज़ाहिद का अपनी आँखों में मय-इवज़ ख़िरक़ा-ए-मरतुहिन देखा
شکر زاہد کا اپنی آنکھوں میں مے عوض خرقہ مرتہن دیکھا
زاہد نے اپنی آنکھوں میں زہرہ (نبیہ) کو مے-ایواز اور خرقۂ مرتعین دیکھا۔
7
हसरत उस की जगह थी ख़्वाबीदा 'मीर' का खोल कर कफ़न देखा
حسرت اس کی جگہ تھی خوابیدہ میرؔ کا کھول کر کفن دیکھا
ہसरत اس کی جگہ تھی خوابیدہ، 'میر' نے اپنا کھول کر کفن دیکھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.