Sukhan AI
غزل

क्या मुसीबत-ज़दा दिल माइल-ए-आज़ार न था

क्या मुसीबत-ज़दा दिल माइल-ए-आज़ार न था
میر تقی میر· Ghazal· 8 shers

یہ غزل ایک ایسے دل کی رنج و غم کا اظہار کرتی ہے جو مصیبتوں اور درد سے بھرا ہوا ہے، اور جس نے کبھی کسی قسم کے دکھ یا مصیبت کا سامنا نہیں کیا۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر آدم نے اس دنیا کو زندہ نہیں کیا ہوتا، تو یہ آئینہ (دنیا) دیکھنے کے لائق نہ ہوتا۔ یہ غزل وطن کی غربت اور کسی بھی قید یا بندھن سے آزادی کے جذبے کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्या मुसीबत-ज़दा दिल माइल-ए-आज़ार था कौन से दर्द-ओ-सितम का ये तरफ़-दार था
کیا میرا دل مصیبت زدہ، مائلِ آزار نہیں تھا؟ یا کیا یہ درد و ستم کا وہ گوشہ نہیں تھا جو اس کا طرف بن گیا تھا؟
2
आदम-ए-ख़ाकी से आलम को जिला है वर्ना आईना था ये वले क़ाबिल-ए-दीदार था
آدم کی خاکی سے عالم کو زندگی ملی ہے، ورنہ یہ آینہ دیکھنے کے قابل نہ تھا۔
3
धूप में जलती हैं ग़ुर्बत वतनों की लाशें तेरे कूचे में मगर साया-ए-दीवार था
اس کا مطلب ہے کہ جس طرح غربت اور نادانی سے وطن جل رہے ہیں، اسی طرح تمہارے راستے میں بھی کوئی سایہ یا سہارا نہیں تھا۔
4
सद गुलिस्ताँ ता-यक बाल थे उस के जब तक ताइर-ए-जाँ क़फ़स-ए-तन का गिरफ़्तार था
جب تک اس کے بال صد گلستان جیسے تھے، تب تک وہ وقت تھا جب روح کا پرندہ جسم کے قفس میں گرفتار نہ تھا۔
5
हैफ़ समझा ही वो क़ातिल नादाँ वर्ना बे-गुनह मारने क़ाबिल ये गुनहगार था
شاعر کہہ رہا ہے کہ وہ نہ قاتل تھا اور نہ ناداں، کیونکہ وہ بے گناہ مرنے کے قابل گنہگار نہیں تھا۔
6
इश्क़ का जज़्ब हुआ बाइ'स-ए-सौदा वर्ना यूसुफ़-ए-मिस्र ज़ुलेख़ा का ख़रीदार था
اگر عشق کا جذبہ نہ ہوتا، ورنہ یوسفِ مصر زلیخا کا خریدار نہ تھا۔
7
नर्म-तर मोम से भी हम को कोई देती क़ज़ा संग छाती का तो ये दिल हमें दरकार था
نرم تر موم سے بھی ہمیں کوئی قضا نہیں دیتی، ساتھ چھاتی کا تو یہ دل ہمیں درکار نہ تھا۔
8
रात हैरान हूँ कुछ चुप ही मुझे लग गई 'मीर' दर्द पिन्हाँ थे बहुत पर लब-ए-इज़हार था
رات کو میں کچھ حیران اور خاموش محسوس کر رہا ہوں، 'میر'۔ بہت درد تھے، لیکن میرے ہونٹ اظہار کے لیے تیار نہیں تھے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

क्या मुसीबत-ज़दा दिल माइल-ए-आज़ार न था | Sukhan AI