रात हैरान हूँ कुछ चुप ही मुझे लग गई 'मीर'
दर्द पिन्हाँ थे बहुत पर लब-ए-इज़हार न था
“Tonight, I am bewildered, remaining silent, 'Meer', Though there were many pains, my lips were not ready to speak.”
— میر تقی میر
معنی
رات کو میں کچھ حیران اور خاموش محسوس کر رہا ہوں، 'میر'۔ بہت درد تھے، لیکن میرے ہونٹ اظہار کے لیے تیار نہیں تھے۔
تشریح
یہ شعر دل میں چھپے درد اور خاموشی کے کرب کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ رات کے سكون نے انہیں حیران کر دیا... کہ وہ کچھ کہہ نہیں پا رہے۔ دل میں غم بہت ہے، مگر لبوں پر اظہار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev8 / 8
