غزل
पल में जहाँ को देखते मेरे डुबो चुका
पल में जहाँ को देखते मेरे डुबो चुका
یہ غزل بیان کرتی ہے کہ شاعر نے محبوب کو دیکھتے ہی اپنا جہاں ڈبو دیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، آنکھوں میں انتظار کا طوفان اور زندگی کا نشہ ایک لمحے میں گزر گیا۔ یہ محبت کی گہرائی اور وقت کے گزرنے کی بے بسی کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
पल में जहाँ को देखते मेरे डुबो चुका
इक वक़्त में ये दीदा भी तूफ़ान रो चुका
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا
اک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا
پل میں جہاں کو دیکھتے میں ڈوب گیا؛ ایک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان سے نہلا گئی۔
2
अफ़्सोस मेरे मुर्दे पर इतना न कर कि अब
पछताना यूँ ही सा है जो होना था हो चुका
افسوس میرے مردے پر اتنا نہ کر کہ اب
پچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا
افسوس میرے مرے پر اتنا نہ کر کہ اب پچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا۔
3
लगती नहीं पलक से पलक इंतिज़ार में
आँखें अगर यही हैं तो भर नींद सो चुका
لگتی نہیں پلک سے پلک انتظار میں
آنکھیں اگر یہی ہیں تو بھر نیند سو چکا
انتظار میں پلکیں اتنی تھک چکی ہیں کہ وہ جھپکتی نہیں ہیں۔ اگر یہ آنکھیں ہیں، تو نیند مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
4
यक चश्मक-ए-प्याला है साक़ी बहार-ए-उम्र
झपकी लगी कि दूर ये आख़िर ही हो चुका
یک چشمک پیالہ ہے ساقی بہار عمر
جھپکی لگی کہ دور یہ آخر ہی ہو چکا
یہ چشمعے جیسا پیالہ ہے ساقی، جو بہارِ عمر ہے؛ جھپکی لگی اور اچانک، یہ سب ختم ہو گیا۔
5
मुमकिन नहीं कि गुल करे वैसी शगुफ़्तगी
उस सरज़मीं में तुख़्म-ए-मोहब्बत मैं बो चुका
ممکن نہیں کہ گل کرے ویسی شگفتگی
اس سرزمیں میں تخم محبت میں بو چکا
یہ ممکن نہیں کہ اس سرزمین میں ایسی خوبصورت رونق کھل جائے، جہاں میں نے محبت کا بیج بو دیا ہے۔
6
पाया न दिल बहाया हुआ सैल-ए-अश्क का
मैं पंजा-ए-मिज़ा से समुंदर बिलो चुका
پایا نہ دل بہایا ہوا سیل اشک کا
میں پنجۂ مژہ سے سمندر بلو چکا
میرے پنجےِ مزاج سے سمندر بولو چکا، وہ سیلِ اشک کا پہاڑ میں نہ پایا۔
7
हर सुब्ह हादसे से ये कहता है आसमाँ
दे जाम-ए-ख़ून 'मीर' को गर मुँह वो धो चुका
ہر صبح حادثے سے یہ کہتا ہے آسماں
دے جام خون میرؔ کو گر منہ وہ دھو چکا
ہر صبح حادثے سے آسمان کہتا ہے، 'اگر اس نے خون کا جام دھو دیا ہے، تو مجھے دے۔'
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
