غزل
कब तलक ये सितम उठाइएगा
कब तलक ये सितम उठाइएगा
غزل میں شاعر محبوب سے ستم کے خاتمے اور بے خُودی کے اظہار کا سوال کرتا ہے۔ اس میں زندگی کو مکمل اور آزاد جینے کی تلقین ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اگر شاعر دنیا کے رنگوں سے دور رہا تو شاید آزادی کبھی نہ پا سکے۔ یہ قید سے نجات اور آزادی کی ایک پکار ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कब तलक ये सितम उठाइएगा
एक दिन यूँही जी से जाइएगा
آپ کب تک یہ ستم برداشت کریں گے؟ ایک دن آپ یوں ہی مر جائیں گے۔
2
शक्ल तस्वीर-ए-बे-ख़ुदी कब तक
कसो दिन आप में भी आइएगा
شکل تصویرِ بے خودی کب تک، کسو دن آپ میں بھی آئیے گا۔ اس کا سادہ शाब्दिक अर्थ है कि यह بے خودی کا मुखौटा कब तक रहेगा और आप भी कब اپنا سچا رنگ دکھائیں گے۔
3
सब से मिल चल कि हादसे से फिर
कहीं ढूँडा भी तो न पाइएगा
ہر کسی سے یا کسی حادثے سے، پھر کہیں ڈھونڈا بھی تو نہیں ملے گا۔
4
न मूए हम असीरी में तो नसीम
कोई दिन और बाव खाइएगा
اگر ہم قید میں مرے نہیں، اے ناصیم، تو کسی دن تم بھی ضرور مرو گے۔
5
कहियेगा उस से क़िस्सा-ए-मजनूँ
या'नी पर्दे में ग़म सुनाइएगा
اس سے مجنون کی کہانی کہیے، یعنی پردے میں غم سنائیے۔
6
उस के पा-बोस की तवक़्क़ो' पर
अपने तीं ख़ाक में मिलाइएगा
اس کے پا-بوس کی تفقّو' پر، اپنے تیं خاک میں ملائیے گا۔ (مطلب: اس کے پاؤں کے پیچھے کے حصے کی رگوں/جلد پر، اپنی تیز سانس/خوشبو ملا دینا۔)
7
उस के पाँव को जा लगी है हिना
ख़ूब से हाथ उसे लगाइएगा
اس کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا، خوب سے ہاتھ اسے لگائیے گا۔
8
शिरकत-शैख़-ओ--बरहमन से 'मीर'
का'बा-ओ-दैर से भी जाइएगा
شِرقَت-شِیخ-و-برہمن سے، کعبہ-و-دیر سے بھی جائیے گا۔
9
अपनी डेढ़ ईंट की जद्दी मस्जिद
किसी वीराने में बनाइयेगा
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد کسی ویرانے میں بنائیے گا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
