غزل
मैं भी दुनिया में हूँ इक नाला-परेशाँ यक जा
मैं भी दुनिया में हूँ इक नाला-परेशाँ यक जा
یہ غزل ایک بے چین اور تھکے ہوئے دل کی فریاد ہے، جو زندگی کے دکھوں اور دنیا کی مایوسیوں کو بیان کرتی ہے۔ شاعر خود کو دنیا میں ایک پریشان نالے کے طور پر پیش کرتا ہے، اور محبت و زندگی میں گزرے کئی دکھوں کا ذکر کرتا ہے۔ یہ غزل ایک طرح سے خود-समर्पण اور گہرے غم کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
मैं भी दुनिया में हूँ इक नाला-परेशाँ यक जा
दिल के सौ टुकड़े मिरे पर सभी नालाँ यक जा
میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا
میں بھی دنیا میں ایک پریشان نالہ ہوں، اے جان؛ تمام نالے گزر جائیں۔ میرے دل کے سو ٹکڑوں پر تمام نالے، اے جان۔
2
पंद-गोयों ने बहुत सीने की तदबीरें लीं
आह साबित भी न निकला ये गरेबाँ यक जा
پند گویوں نے بہت سینے کی تدبیریں لیں
آہ ثابت بھی نہ نکلا یہ گریباں یک جا
پنڈوں نے بہت سی سازشیں کیں، مگر 'اُہ، میرا دل' کی پکار بھی اس پریشانی سے نکل نہ سکی۔
3
तेरा कूचा है सितमगार वो काफ़िर जागह
कि जहाँ मारे गए कितने मुसलमाँ यक जा
تیرا کوچہ ہے ستم گار وہ کافر جاگہ
کہ جہاں مارے گئے کتنے مسلماں یک جا
ترا کوچہ ہے ستمگار، وہ کافر جگہ، کہ جہاں مارے گئے کتنے مسلمان، اے جا۔
4
सर से बाँधा है कफ़न इश्क़ में तेरे या'नी
जम्अ' हम ने भी किया है सर-ओ-सामाँ यक जा
سر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یعنی
جمع ہم نے بھی کیا ہے سر و ساماں یک جا
سر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یأنی؛ جمع ہم نے بھی کیا ہے سر و سمان یک جا۔
5
क्यूँके पड़ते हैं तिरे पाँव नसीम-ए-सहरी
उस के कूचे में है सद गंज-ए-शहीदाँ यक जा
کیونکے پڑتے ہیں ترے پاؤں نسیم سحری
اس کے کوچے میں ہے صد گنج شہیداں یک جا
اے محبوب، تم ایسے کیوں چلتے ہو جہاں صبح کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے؟ اس گلی میں شہیدوں کی مقدس قبریں پڑی ہیں، اے میرے پیار۔
6
तू भी रोने को मिला दिल है हमारा भी भरा
होजे ऐ अब्र बयाबान में गिर्यां यक जा
تو بھی رونے کو ملا دل ہے ہمارا بھی بھرا
ہوجے اے ابر بیابان میں گریاں یک جا
اگر تجھے بھی رونے کو ملا ہے ہمارا دل، تو ہمارا بھی بھرا ہے۔ اے ابر، اب بیہ بیاں میں گریہں یک جا۔
7
बैठ कर 'मीर' जहाँ ख़ूब न रोया होवे
ऐसी कूचे में नहीं है तिरे जानाँ यक जा
بیٹھ کر میرؔ جہاں خوب نہ رویا ہووے
ایسی کوچے میں نہیں ہے ترے جاناں یک جا
شاعر کہتا ہے کہ اے جاناں، ایسی کوئی گلی نہیں ہے جہاں بیٹھ کر آنسو نہ بہایا ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
