غزل
बे-कसाना जी गिरफ़्तारी से शेवन में रहा
बे-कसाना जी गिरफ़्तारी से शेवन में रहा
یہ غزل 'بے-کسانہ جی' کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتی ہے، خاص طور پر ان کی گرفتاری اور عشق کے شدید تجربات پر۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص محبت اور جنونی تجربات سے گزرا، جس میں جذباتی جدوجہد اور جدائی کا احساس اہم ہے۔
نغمہ سنیں
1
बे-कसाना जी गिरफ़्तारी से शेवन में रहा
इक दिल-ए-ग़म-ख़्वार रखते थे सो गुलशन में रहा
بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
اک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا
بی-کسانہ جی کو گرفتاری سے شِیوَن میں رہنا پڑا، مگر دل-اے-غمخواں ایک گلشن میں رہا۔
2
पंजा-ए-गुल की तरह दीवानगी में हाथ को
गर निकाला में गरेबाँ से तो दामन में रहा
پنجۂ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کو
گر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا
پنجےِ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کو اگر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا
3
शम' साँ जलते रहे लेकिन न तोड़ा यार से
रिश्ता-ए-उल्फ़त तमामी 'उम्र गर्दन में रहा
شمع ساں جلتے رہے لیکن نہ توڑا یار سے
رشتۂ الفت تمامی عمر گردن میں رہا
اگرچہ جدائی کی شمع جلتی رہی، مگر میرے محبوب نے یار سے رشتہ نہیں توڑا؛ محبت کا یہ لازوال بندھن عمر بھر میری گردن میں رہا۔
4
डर से उस शमशीर-ज़न के जौहर आईना साँ
सर से ले कर पाँव तक मैं ग़र्क़ आहन में रहा
ڈر سے اس شمشیر زن کے جوہر آئینہ ساں
سر سے لے کر پاؤں تک میں غرق آہن میں رہا
डर سے اس شمشیر زَن کے جوہر آئینہ ساں، سر سے لے کر پاؤں تک میں غرق آہن میں رہا
5
हम न कहते थे कि मत दैर-ओ-हरम की राह चल
अब ये दा'वा हश्र तक शैख़-ओ-बरहमन में रहा
ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چل
اب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا
ہم نہیں کہتے تھے کہ دَر و حرم کی راہ نہ چلو، مگر اب یہ دعویٰ شیخ و برہمن میں رھا ہے۔
6
दरपय-ए-दिल ही रहे उस चेहरे के ख़ाल-ए-सियाह
डर हमें उन चोंटों का रोज़-ए-रौशन में रहा
درپئے دل ہی رہے اس چہرے کے خال سیاہ
ڈر ہمیں ان چوٹوں کا اب روز روشن میں رہا
دل کا پردہ اسی گہرے رنگ کے چہرے پر رہے، اور ہمیں ان زخموں کا خوف ہے جو روشن دن میں بھی نظر آئیں گے۔
7
आह किस अंदाज़ से गुज़रा बयाबाँ से कि 'मीर'
जी हर इक नख़चीर का उस सैद-ए-अफ़्गन में रहा
آہ کس انداز سے گزرا بیاباں سے کہ میرؔ
جی ہر اک نخچیر کا اس صید افگن میں رہا
آہ کس انداز سے گزراے بیہ ریگستان سے کہ 'میر'۔ ہر اک نقشِ ر کا اُس سیدِ افغان میں رہا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
