غزل
ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा
ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा
یہ غزل جدائی اور رسوائی کے تجربات کا بیان ہے، جس میں شاعر کو لگتا ہے کہ اس طرح کا کوئی اور شخص اتنا دکھ نہیں سہہ پایا ہوگا۔ وہ اپنے غم کو بیان کرتے ہوئے، اپنے محبوب کے رویے اور دنیا کی ظالمانہ حرکتوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ نظم زندگی کی سخت حقیقتوں اور انسانی اذیت کو پیش کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा
दुश्मन के भी दुश्मन पर ऐसा न हुआ होगा
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا، دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا۔
2
अब अश्क-ए-हिनाई से जो तर न करे मिज़्गाँ
वो तुझ कफ़-ए-रंगीं का मारा न हुआ होगा
اب اشک حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاں
وہ تجھ کف رنگیں کا مارا نہ ہوا ہوگا
اب اشکِ حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاں، وہ تجھ کفِ رنگین کا مارا نہ ہوا ہوگا۔
3
टक गोर-ए-ग़रीबाँ की कर सैर कि दुनिया में
उन ज़ुल्म-रसीदों पर क्या क्या न हुआ होगा
ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں
ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا
اजनबी کی نظروں سے دنیا میں کیا کیا مناظر دیکھے ہوں گے، ان ظلم رفتہ پر کیا کیا کچھ ہوا ہوگا۔
4
बे-नाला-ओ-बे-ज़ारी बे-ख़स्तगी-ओ-ख़ारी
इमरोज़ कभी अपना फ़र्दा न हुआ होगा
بے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواری
امروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا
بے-नाला-او-بے-زاری، بے-خستگی-او-خاری۔ امروٰز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا۔ (معنی: نہ ندی کا بہاؤ ہے اور نہ کانٹے کی تیزی، آج شاید میرا آنے والا کل ابھی تک نہیں آیا ہوگا۔)
5
है क़ाएदा कुल्ली ये कू-ए-मोहब्बत में
दिल ग़म जो हुआ होगा पैदा न हुआ होगा
ہے قاعدہ کلی یہ کوئے محبت میں
دل غم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا
شاعر کہتا ہے کہ محبت کی گلی میں یہ اصول ہے کہ اگر دل کو غم ہوا ہے، تو وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوا ہوگا۔
6
इस कोहना-ख़राबे में आबादी न कर मुनइ'म
यक शहर नहीं याँ जो सहरा न हुआ होगा
اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم
یک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا
اس کھنڈر و خرابے میں آباد ہونے کی کوشش نہ کر، اے مُنعم؛ ایسا کوئی شہر نہیں ہے جو صحرا نہ ہو چکا ہو۔
7
आँखों से तिरी हम को है चश्म कि अब होवे
जो फ़ित्ना कि दुनिया में बरपा न हुआ होगा
آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے
جو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا
آپ کی آنکھوں سے ہمیں ایسا چشمہ ملا ہے، کہ اب وہ فتنہ نظر آئے گا جو اس دنیا میں کبھی پھیلا نہیں ہے۔
8
जुज़ मर्तबा-ए-कल को हासिल करे है आख़िर
यक क़तरा न देखा जो दरिया न हुआ होगा
جز مرتبۂ کل کو حاصل کرے ہے آخر
یک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہوگا
آخر کار کل کا مرتبہ حاصل کرے ہے آخر، اک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہو گا
9
सद नश्तर-ए-मिज़्गाँ के लगने से न निकला ख़ूँ
आगे तुझे 'मीर' ऐसा सौदा न हुआ होगा
صد نشتر مژگاں کے لگنے سے نہ نکلا خوں
آگے تجھے میرؔ ایسا سودا نہ ہوا ہوگا
یہ اشعار کا مطلب ہے کہ چٹکی کے میٹھے نَشتر سے خون نہ نکلنے کا کیا مطلب ہے، آگے تمہیں 'میر' ایسا کوئی سودا نہیں ہوا ہوگا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
