Sukhan AI
غزل

ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा

ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل جدائی اور رسوائی کے تجربات کا بیان ہے، جس میں شاعر کو لگتا ہے کہ اس طرح کا کوئی اور شخص اتنا دکھ نہیں سہہ پایا ہوگا۔ وہ اپنے غم کو بیان کرتے ہوئے، اپنے محبوب کے رویے اور دنیا کی ظالمانہ حرکتوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ نظم زندگی کی سخت حقیقتوں اور انسانی اذیت کو پیش کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा दुश्मन के भी दुश्मन पर ऐसा न हुआ होगा
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا، دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا۔
3
टक गोर-ए-ग़रीबाँ की कर सैर कि दुनिया में उन ज़ुल्म-रसीदों पर क्या क्या न हुआ होगा
اजनबी کی نظروں سے دنیا میں کیا کیا مناظر دیکھے ہوں گے، ان ظلم رفتہ پر کیا کیا کچھ ہوا ہوگا۔
4
बे-नाला-ओ-बे-ज़ारी बे-ख़स्तगी-ओ-ख़ारी इमरोज़ कभी अपना फ़र्दा न हुआ होगा
بے-नाला-او-بے-زاری، بے-خستگی-او-خاری۔ امروٰز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا۔ (معنی: نہ ندی کا بہاؤ ہے اور نہ کانٹے کی تیزی، آج شاید میرا آنے والا کل ابھی تک نہیں آیا ہوگا۔)
5
है क़ाएदा कुल्ली ये कू-ए-मोहब्बत में दिल ग़म जो हुआ होगा पैदा न हुआ होगा
شاعر کہتا ہے کہ محبت کی گلی میں یہ اصول ہے کہ اگر دل کو غم ہوا ہے، تو وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوا ہوگا۔
6
इस कोहना-ख़राबे में आबादी न कर मुनइ'म यक शहर नहीं याँ जो सहरा न हुआ होगा
اس کھنڈر و خرابے میں آباد ہونے کی کوشش نہ کر، اے مُنعم؛ ایسا کوئی شہر نہیں ہے جو صحرا نہ ہو چکا ہو۔
7
आँखों से तिरी हम को है चश्म कि अब होवे जो फ़ित्ना कि दुनिया में बरपा न हुआ होगा
آپ کی آنکھوں سے ہمیں ایسا چشمہ ملا ہے، کہ اب وہ فتنہ نظر آئے گا جو اس دنیا میں کبھی پھیلا نہیں ہے۔
9
सद नश्तर-ए-मिज़्गाँ के लगने से न निकला ख़ूँ आगे तुझे 'मीर' ऐसा सौदा न हुआ होगा
یہ اشعار کا مطلب ہے کہ چٹکی کے میٹھے نَشتر سے خون نہ نکلنے کا کیا مطلب ہے، آگے تمہیں 'میر' ایسا کوئی سودا نہیں ہوا ہوگا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ऐ दोस्त कोई मुझ सा रुस्वा न हुआ होगा | Sukhan AI