टक गोर-ए-ग़रीबाँ की कर सैर कि दुनिया में
उन ज़ुल्म-रसीदों पर क्या क्या न हुआ होगा
“What sights the world has seen in the eyes of the stranger,”
— میر تقی میر
معنی
اजनबी کی نظروں سے دنیا میں کیا کیا مناظر دیکھے ہوں گے، ان ظلم رفتہ پر کیا کیا کچھ ہوا ہوگا۔
تشریح
یہ شعر ہمیں دنیا کے دکھ سکھ اور ظلم و ستم کی تاریخ پر غور کرنے کو کہتا ہے۔ میر تقی میر پوچھتے ہیں کہ ان قبروں اور ظلم کی رسیوں پر کیا کیا گزرے ہوں گے۔ یہ انسانیت کے زخموں کا ایک گہرا اعتراف ہے۔
