بے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواری
امروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا
“Lacking the flow of a river, lacking the sharpness of a thorn, Today, perhaps, my tomorrow has not yet arrived.”
— میر تقی میر
معنی
بے-नाला-او-بے-زاری، بے-خستگی-او-خاری۔ امروٰز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہوگا۔ (معنی: نہ ندی کا بہاؤ ہے اور نہ کانٹے کی تیزی، آج شاید میرا آنے والا کل ابھی تک نہیں آیا ہوگا۔)
تشریح
یہ شعر ایک گہری وجودی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنی بے جذبی اور بے رنگی کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بات کہ 'آج تک کل کبھی نہیں ہوا ہوگا'، ایک ایسے ٹھہراؤ کی طرف اشارہ ہے جہاں زندگی ہمیشہ ایک اداس 'آج' میں قید ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
