आँखों से तिरी हम को है चश्म कि अब होवे
जो फ़ित्ना कि दुनिया में बरपा न हुआ होगा
“My eyes are like spectacles for you, dear, for the illusion that has not yet been woven in this world.”
— میر تقی میر
معنی
آپ کی آنکھوں سے ہمیں ایسا چشمہ ملا ہے، کہ اب وہ فتنہ نظر آئے گا جو اس دنیا میں کبھی پھیلا نہیں ہے۔
تشریح
یہ شعر عشق کی وہ گہری عادت بیان کرتا ہے جو نگاہوں سے پیدا ہوتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کی آنکھوں نے انہیں اتنی حد تک مسحور کر دیا ہے کہ وہ اس دنیا کے ان فتنوں سے خوفزدہ ہیں جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔
