غزل
बेताबियों में तंग हम आए हैं जान से
बेताबियों में तंग हम आए हैं जान से
یہ غزل بے چینی اور شدید کرب کے جذبات کا اظہار کرتی ہے، جس میں شاعر نے اپنی زندگی کے دکھوں اور عشق کی تڑپ کو بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ بے تابی سے تنگ آ چکا ہے اور وقت کی غیر یقینی نے اسے پریشان کر دیا ہے۔ وہ اپنے محبوب کی طرف شدید رغبت کا اظہار کرتا ہے، جو اس کے دل میں جلتی ایک نامعلوم آگ جیسا ہے۔
نغمہ سنیں
1
बेताबियों में तंग हम आए हैं जान से
वक़्त-ए-शकेब ख़ुश कि गया दरमियान से
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
بےتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے، وقتِ شَکب خوش کہ گیا درمیانے سے۔
2
दाग़-ए-फ़िराक़-ओ-हसरत-ए-वस्ल आरज़ू-ए-दीद
क्या क्या लिए गए तिरे 'आशिक़ जहान से
داغ فراق و حسرت وصل آرزوئے دید
کیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
فراق اور وصل کی حسرت کا داغ، دیدار کی آرزو، میرے 'عاشقِ جہاں' سے کیا کیا لے گئے تم۔
3
हम ख़ामुशों का ज़िक्र था शब उस की बज़्म में
निकला न हर्फ़-ए-ख़ैर किसू की ज़बान से
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میں
نکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے
رات کی محفل میں خاموشوں کا ذکر ہوا، مگر کسی کے منہ سے کوئی اچھی بات نہیں نکلی۔
4
आब-ए-ख़िज़र से भी न गई सोज़िश-ए-जिगर
क्या जानिए ये आग है किस दूदमान से
آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگر
کیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے
آبِ خضر سے بھی دل کا جلنا دور نہیں ہوا؛ یہ آگ کس طاقتور منبع سے نکل رہی ہے، کون جانتا ہے۔
5
जुज़ 'इश्क़ जंग-ए-दहर से मत पढ़ कि ख़ुश हैं हम
उस क़िस्से की किताब में उस दास्तान से
جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم
اس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
جُزّ 'عشق' جنگِ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم اس قصّے کی کتاب میں، اس داستان سے۔
6
आने का इस चमन में सबब बेकली हुई
जूँ बर्क़ हम तड़प के गिरे आशियान से
آنے کا اس چمن میں سبب بیکلی ہوئی
جوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے
اس چمن میں آنے کا سبب بے کلی ہوئی؛ ہم تڑپ کے گرے آشیان سے۔
7
अब छेड़ ये रक्खी है कि 'आशिक़ है तो कहें
अल-क़िस्सा ख़ुश गुज़रती है उस बद-गुमान से
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں
القصہ خوش گزرتی ہے اس بد گمان سے
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ 'عاشق ہے تو کہیں'، قصہ اس بدگمان سے خوشگزر گزرتا ہے۔
8
कीने की मेरे तुझ से न चाहेगा कोई दाद
मैं कह मरूँगा अपने हर इक मेहरबान से
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد
میں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
کوئی میرے سے تجھ سے چاہ نہیں چاہے گا، میں کہوں گا کہ میں اپنے ہر اِک مَہرِبان سے مر جاؤں گا۔
9
दाग़ों से है चमन जिगर-ए-'मीर' दहर में
उन ने भी गुल चुने बहुत उस गुल्सितान से
داغوں سے ہے چمن جگر میرؔ دہر میں
ان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے
داغوں سے ہے چمن جگر اے میر دہر میں۔ اُن نے بھی گل چنے بہت اُس گلستاں سے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
