दाग़-ए-फ़िराक़-ओ-हसरत-ए-वस्ल आरज़ू-ए-दीद
क्या क्या लिए गए तिरे 'आशिक़ जहान से
“The stain of separation and the longing for union, the desire to see you, What all have you taken from the lover of the world?”
— میر تقی میر
معنی
فراق اور وصل کی حسرت کا داغ، دیدار کی آرزو، میرے 'عاشقِ جہاں' سے کیا کیا لے گئے تم۔
تشریح
یہ شعر محبوب سے ایک سوال ہے کہ اس نے عاشق سے کیا کیا چھین لیا ہے۔ شاعر، میر تقی میر، فراق کے زخموں اور وصل کی شدید خواہش کو بیان کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا درد ہے جو محبوب کی ذات سے ہی جنم لیتا ہے، جہاں ہر لمحہ عذاب ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
