غزل
दहर भी 'मीर' तुर्फ़ा-ए-मक़्तल है
दहर भी 'मीर' तुर्फ़ा-ए-मक़्तल है
یہ غزل زندگی کی عارضی حقیقت اور وقت کی اہمیت پر ایک گہرا فلسفیانہ اظہار ہے۔ شاعر 'میر' کہتے ہیں کہ ہر لمحہ ایک آخری پڑاؤ جیسا ہے، جہاں زندگی کے تمام فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ غزل ہمیں حال کی قدر کرنے کی یاد دلاتی ہے، اور زور دیتی ہے کہ آج کا وقت بہت قیمتی اور گزر جانے والا ہے۔
نغمہ سنیں
1
दहर भी 'मीर' तुर्फ़ा-ए-मक़्तल है
जो है सो कोई दम को फ़ैसल है
دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہے
جو ہے سو کوئی دم کو فیصل ہے
اُہ میر! یہ جام موت کا نشہ ہے، جو ہے وہ کوئی لمحے میں فیصلہ ہے۔
2
कसरत-ए-ग़म से दिल लगा रुकने
हज़रत-ए-दिल में आज दंगल है
کثرت غم سے دل لگا رکنے
حضرت دل میں آج دنگل ہے
کثرتِ غم سے دل لگا رکنے
حضرتِ دل میں آج جنگل ہے
3
रोज़ कहते हैं चलने को ख़ूबाँ
लेकिन अब तक तो रोज़-ए-अव्वल है
روز کہتے ہیں چلنے کو خوباں
لیکن اب تک تو روز اول ہے
ہر کوئی مسلسل راستہ چلنے اور آگے بڑھنے کی بات کرتا ہے، مگر یہ اب تک تو روزِ اول ہی ہے۔
4
छोड़ मत नक़्द वक़्त-ए-नसिया पर
आज जो कुछ है सो कहाँ कल है
چھوڑ مت نقد وقت نسیہ پر
آج جو کچھ ہے سو کہاں کل ہے
شاعر کہہ رہے ہیں کہ نقد وقتِ نسیان کو نہ چھوڑنا، کیونکہ آج جو کچھ ہے وہ کل نہیں رہے گا۔
5
बंद हो तुझ से ये खुला न कभू
दिल है या ख़ाना-ए-मुक़फ़्फ़ल है
بند ہو تجھ سے یہ کھلا نہ کبھو
دل ہے یا خانۂ مقفل ہے
مجھ سے بند ہے یہ، کبھی کھلا نہیں۔ دل ہے یا ایک بند مکان؟
6
सीना-चाकी भी काम रखती है
यही कर जब तलक मो'अत्तल है
سینہ چاکی بھی کام رکھتی ہے
یہی کر جب تلک معطل ہے
شاعر کا اشارہ ہے کہ جب تک کوئی شخص تجربہ کار نہیں ہوتا، تب تک سینے جیسی بناوٹ بھی کام آتی ہے۔
7
अब के हाथों में शौक़ के तेरे
दामन-ए-बादिया का आँचल है
اب کے ہاتھوں میں شوق کے تیرے
دامن بادیہ کا آنچل ہے
اب کے ہاتھوں میں تمہارے شوق کے whim اور دامنِ بادیہ کا آंचल ہے۔
8
टक गरेबाँ में सर को डाल के देख
दिल भी क्या लक़-ओ-दक़ जंगल है
ٹک گریباں میں سر کو ڈال کے دیکھ
دل بھی کیا لق و دق جنگل ہے
ٹک गरेبان میں سر کو ڈال کے دیکھ، دل بھی کیا लक़-او-دق جنگل ہے. اس کا مطلب ہے کہ جب سر کو گردن پر رکھ کر دیکھا جائے، تو یہ دل بھی کیسا جنگل ہے۔
9
हिज्र बा'इस है बद-गुमानी का
ग़ैरत-ए-इश्क़ है तो कब कल है
ہجر باعث ہے بد گمانی کا
غیرت عشق ہے تو کب کل ہے
یہ ہجرِ وِصال شک کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ عشق کا فخر ہے، تو کل کب آئے گا؟
10
मर गया कोहकन इसी ग़म में
आँख ओझल पहाड़ ओझल है
مر گیا کوہ کن اسی غم میں
آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہے
اس غم میں کوحل مر گئی؛ آنکھ اور پہاڑ دونوں اوجھل ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
