غزل
करे क्या कि दिल भी तो मजबूर है
करे क्या कि दिल भी तो मजबूर है
یہ غزل ایک مجبور دل کے احساسات کا اظہار کرتی ہے، جو مشکل حالات میں بھی اپنے پیار اور لگاؤ سے دور نہیں ہو سکتا۔ یہ بتاتی ہے کہ زندگی میں بہت شور و غل اور مشکلات ہیں، مگر دل کی چاہت اور رشتوں کا سہارا ہمیشہ قائم رہتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
करे क्या कि दिल भी तो मजबूर है
ज़मीं सख़्त है आसमाँ दूर है
کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے
زمیں سخت ہے آسماں دور ہے
اس کا مطلب ہے کہ کیا کیا جائے جب دل بھی مجبور ہے؛ زمین سخت ہے اور آسمان دور ہے۔
2
जरस-ए-राह में जुमला-तन शोर है
मगर क़ाफ़िले से कोई दूर है
جرس راہ میں جملہ تن شور ہے
مگر قافلے سے کوئی دور ہے
راہِ زندگی میں جُملہ تَن شور ہے مگر قافلے سے کوئی دور نہیں ہے۔
3
तमन्ना-ए-दिल के लिए जान दी
सलीक़ा हमारा तो मशहूर है
تمنائے دل کے لیے جان دی
سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
تمنائے دل کے لیے جان دی، سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے।
4
न हो किस तरह फ़िक्र अंजाम कार
भरोसा है जिस पर सो मग़रूर है
نہ ہو کس طرح فکر انجام کار
بھروسہ ہے جس پر سو مغرور ہے
نہیں ہے کس طرح فکر انجام کار، بھروسہ ہے جس پر وہ مغرور ہے
5
पलक की सियाही में है वो निगाह
कसो का मगर ख़ून मंज़ूर है
پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ
کسو کا مگر خون منظور ہے
پلک کی سیاہی میں وہ نگاہ ہے، جس کے لیے خون بھی منظور ہے۔
6
दिल अपना निहायत है नाज़ुक-मिज़ाज
गिरा गर ये शीशा तो फिर चूर है
دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج
گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے
دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج، اگر یہ شیشہ گرا تو پھر چور ہے۔
7
कहीं जो तसल्ली हुआ हो ये दिल
वही बे-क़रारी ब-दस्तूर है
کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل
وہی بے قراری بدستور ہے
کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل، وہی بے-قریری ب-دستور ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس دل کو کہیں بھی جو سکون یا اطمینان ہوا ہے، وہ بے چینی کا ہی ایک اصول یا معمول ہے۔
8
न देखा कि लोहू थंबा हो कभू
मगर चश्म-ए-ख़ूँ-बार नासूर है
نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو
مگر چشم خوں بار ناسور ہے
نہ دیکھا کہ لہو تھمبا ہو کبھ، مگر چشمِ خون بار نہسر ہے۔
9
तनिक गर्म तू संग-रेज़े को देख
निहाँ उस में भी शोला-ए-तूर है
تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ
نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے
تھوڑا سا گرم تیرے ساتھ ریشے کو دیکھ کر بھی، مجھے اس میں بھی شولا-ئے-تور نظر آتا ہے۔
10
बहुत स'ई करिए तो मर रहिए 'मीर'
बस अपना तो इतना ही मक़्दूर है
بہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔ
بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے
اگر بہت کوشش کرو گے تو مر جاؤ گے، میر۔ بس اپنا تو اتنا ہی مقدر ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
