पलक की सियाही में है वो निगाह
कसो का मगर ख़ून मंज़ूर है
“In the ink of the eyelid, there is that gaze, For the sake of which, even blood is acceptable.”
— میر تقی میر
معنی
پلک کی سیاہی میں وہ نگاہ ہے، جس کے لیے خون بھی منظور ہے۔
تشریح
یہ شعر محبوب کی نگاہ کے بے پایاں جادو کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہہ رہے ہیں کہ یہ نظر صرف ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عشق ہے جو ہر قیمت سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ مکمل نذر و نیاز ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
