غزل

शब शम्अ' पर पतंग के आने को इश्क़ है

शब शम्अ' पर पतंग के आने को इश्क़ है
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل عشق کو ایک نشہ آور اور کبھی کبھی تکلیف دہ تجربہ قرار دیتی ہے۔ شاعر عشق کے کشش کو ایک خاص رات میں پتنگ کے آنے سے تشبیہ دیتا ہے، جو ایک فطری اور بے باک خوشی ہے۔ عشق وہ طاقت ہے جو انسان کو دل جلے کی تاب لانے، مردانہ زندگی گزارنے، اور یہاں تک کہ زمانے کو آوارگی سے ستا دینے کی ترغیب دیتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
शब शम्अ' पर पतंग के आने को इश्क़ है उस दिल-जले के ताब के लाने को इश्क़ है
شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے اس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے
شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے، اس دل جلے کے تاب کے لانے کو عشق ہے۔ (مطلب، یہ وہ عشق ہے جو شرم کی شاخ پر پتنگ کے آنے کا انتظار کرتا ہے، اور یہ وہ عشق ہے جو دل جلنے کی چنگاری کے آنے کا انتظار کرتا ہے۔)
2
सर मार मार संग से मर्दाना जी दिया फ़रहाद के जहान से जाने को इश्क़ है
سر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیا فرہاد کے جہان سے جانے کو عشق ہے
سر مار مار سنگ سے مردانہ جی دیا۔ فرہاد کے جہاں سے جانے کو عشق ہے۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ مردانہ جی نے تیر اندازی کے کھیل (سر مار مار) کے ساتھ ایک مردانہ تحفہ دیا ہے، اور یہ عشق ہی ہے جو فرہاد کے جہاں سے دور لے جاتا ہے۔
3
उठियो समझ के जा से कि मानिंद-ए-गर्द-बाद आवारगी से तेरी ज़माने को इश्क़ है
اٹھیو سمجھ کے جا سے کہ مانند گرد باد آوارگی سے تیری زمانے کو عشق ہے
اٹھو اور سمجھ لو اے محبوب، کہ یہ تیری زمانے کا عشق ہے، محض گرد کے بکھرنے جیسا نہیں۔
4
बस ऐ सिपहर सई से तेरी तो रोज़-ओ-शब याँ ग़म सताने को है जलाने को इश्क़ है
بس اے سپہر سعی سے تیری تو روز و شب یاں غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے
بس اے سپہر سئی سے تیری تو روز و شب غم ستانے کو ہے جلانے کو عشق ہے
5
बैठी जो तेग़-ए-यार तो सब तुझ को खा गई ऐ सीने तेरे ज़ख़्म उठाने को इश्क़ है
بیٹھی جو تیغ یار تو سب تجھ کو کھا گئی اے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے
بیٹھا جو تیرِ یار تو سب تجھ کو کھا گئی। / اے سینے تیرے زخم اٹھانے کو عشق ہے۔
6
इक दम में तू ने फूँक दिया दो-जहाँ के तीं ऐ इश्क़ तेरे आग लगाने को इश्क़ है
اک دم میں تو نے پھونک دیا دو جہاں کے تیں اے عشق تیرے آگ لگانے کو عشق ہے
اِک دم میں تُو نے دو جہاں کے تیروں میں پھونک دیا। اے عشق، تجھے آگ لگانے کا کرنا بھی عشق ہی ہے۔
7
सौदा हो तब हो 'मीर' को तो करिए कुछ इलाज उस तेरे देखने के दिवाने को इश्क़ है
سودا ہو تب ہو میرؔ کو تو کریے کچھ علاج اس تیرے دیکھنے کے دوانے کو عشق ہے
اگر تمہیں کوئی سودا کرنا ہے، تو میر کو کچھ علاج کیجیے۔ یہ تو عشق ہے جو تمہارے دیکھنے والے دیوانے کو ستاتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

शब शम्अ' पर पतंग के आने को इश्क़ है | Sukhan AI