غزل
ढूँडा न पाइए जो इस वक़्त में सौ ज़र है
ढूँडा न पाइए जो इस वक़्त में सौ ज़र है
یہ غزل بتاتی ہے کہ جو چیز اس وقت میں سو زر ہے، اسے ڈھونڈا نہیں جا سکتا۔ یہ زندگی کے ہر قدم پر احتیاط برتنے اور اپنی فن یا ہنر پر بھروسہ رکھنے کی بات کرتی ہے، کیونکہ یہ جگہ شیشے کا کارگاہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ محبوب کے بغیر دل بھی بے فائدہ ہے اور ہمیں اپنی فریاد کہاں رکھنی ہے۔
نغمہ سنیں
1
ढूँडा न पाइए जो इस वक़्त में सौ ज़र है
फिर चाह जिस की मुतलक़ है ही नहीं हुनर है
ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہے
پھر چاہ جس کی مطلق ہے ہی نہیں ہنر ہے
اس وقت میں سو زر ڈھونڈنا ممکن نہیں، اور نہ ہی کوئی ہنر ہے کہ وہ محبت حاصل کی جا سکے جو مطلق ہو۔
2
हर-दम क़दम को अपने रख एहतियात से याँ
ये कार-गाह सारी दुक्कान-ए-शीशागर है
ہر دم قدم کو اپنے رکھ احتیاط سے یاں
یہ کار گاہ ساری دکان شیشہ گر ہے
ہر دم قدم کو اپنے احتیاط سے رکھنا، یہ کارگاہ ساری دکانِ شیشے گر ہے۔
3
ढाया जिन्नों ने उस को उन पर ख़राबी आई
जाना गया उसी से दिल भी कसो का घर है
ڈھاہا جنوں نے اس کو ان پر خرابی آئی
جانا گیا اسی سے دل بھی کسو کا گھر ہے
شاعر کہہ رہے ہیں کہ جنوں نے اسے کوئی خرابی پہنچائی، اور دل/گھر خالی رہ گیا ہے۔
4
तुझ बिन शकेब कब तक बे-फ़ाएदा हूँ नालाँ
मुझ नाला कश के तो ऐ फ़रियाद-रस किधर है
تجھ بن شکیب کب تک بے فائدہ ہوں نالاں
مجھ نالہ کش کے تو اے فریاد رس کدھر ہے
تجھ بِن شَکب کب تک بے فایدا ہوں نالاں۔ میرا نالہ کہاں کش کے، اے فریادِ رَس، کِدھر ہے؟
5
सैद-अफ़गनो हमारे दिल को जिगर को देखो
इक तीर का हदफ़ है इक तेग़ का सिपर है
صید افگنو ہمارے دل کو جگر کو دیکھو
اک تیر کا ہدف ہے اک تیغ کا سپر ہے
اے سعید افغانو، ہمارے دل اور جگر کو دیکھو؛ یہ ایک تیر کا نشانہ ہے اور ایک نیزے کا سرہ۔
6
अहल-ए-ज़माना रहते इक तौर पर नहीं हैं
हर आन मर्तबे से अपने उन्हें सफ़र है
اہل زمانہ رہتے اک طور پر نہیں ہیں
ہر آن مرتبے سے اپنے انہیں سفر ہے
اہلِ زمانہ ایک وقت میں ایک ہی حالت میں نہیں رہتے؛ ہر لمحہ انہیں اپنے مرتبے سے ایک سفر طے کرنا ہوتا ہے۔
7
काफ़ी है महर क़ातिल महज़र पे ख़ूँ के मेरे
फिर जिस जगह ये जावे उस जा ही मो'तबर है
کافی ہے مہر قاتل محضر پہ خوں کے میرے
پھر جس جگہ یہ جاوے اس جا ہی معتبر ہے
میرے محبوب کے قاتل کی قبر پر میرے خون کافی ہیں؛ میں جہاں بھی جاؤں گا، وہ جگہ ہی مقدس ہے۔
8
तेरी गली से बच कर क्यूँ मेहर-ओ-मह न निकलें
हर कोई जानता है इस राह में ख़तर है
تیری گلی سے بچ کر کیوں مہر و مہ نہ نکلیں
ہر کوئی جانتا ہے اس راہ میں خطر ہے
تیرے گلی سے بچ کر کیوں محبّت کی مہک نہ نکلے؟ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس راہ میں خطر ہے۔
9
वे दिन गए कि आँसू रोते थे 'मीर' अब तो
आँखों में लख़्त-ए-दिल है या पारा-ए-जिगर है
وے دن گئے کہ آنسو روتے تھے میرؔ اب تو
آنکھوں میں لخت دل ہے یا پارۂ جگر ہے
وہ دن گئے کہ آنسو روتے تھے، 'میر'، اب تو آنکھوں میں دل کا کوئی باقیات ہے یا جگر کا کوئی نچوڑ ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
